کوئٹہ، بلوچستان میں حالات گوکہ بہتری کی جانب گامزن ہیں،مگرپرامن بلوچستان کیلئے نئی بنیادپر ڈائیلاگ ہونے چاہئیں ، لیاقت بلوچ

لاپتہ افرادبازیاب کرائے جائیں، خود سیاستدان سول ملٹری بیوروکریسی کی راہ ہموار کرتے ہیں اورپھر حقوق کی بات بھی کرتے ہیں ووٹ کوعزت دوکی بات کرتے ہیں،سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان

منگل اپریل 21:09

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) جماعت اسلامی پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں حالات گوکہ بہتری کی جانب گامزن ہیں مگرپرامن بلوچستان کیلئے نئی بنیادپر ڈائیلاگ ہونے چاہئیں ،لاپتہ افرادبازیاب کرائے جائیں، خود سیاستدان سول ملٹری بیوروکریسی کی راہ ہموار کرتے ہیں اورپھر حقوق کی بات بھی کرتے ہیں ووٹ کوعزت دوکی بات کرتے ہیں ، ملااحمددشتی بیک وقت سماجی شخصیت بھی تھے اورسیاسی کارکن بھی تھے وہ غلبہ دین کی جدوجہد کے سپاہی بھی تھے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے دشتی ہائوس تربت میں بیاد بابائے کیچ جماعت اسلامی کے رہنما ’’ملااحمددشتی مرحوم حیات وخدمات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ریفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمابھی شریک تھے اس موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ضلع کونسل کیچ کے چیئرمین حاجی فداحسین دشتی ، بی این پی مینگل کے مرکزی کمیٹی کے رکن عبدالحمید ایڈووکیٹ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صوبائی رہنما حافظ ناصرالدین ضامرانی ، جماعت اسلامی کے رہنما ومرحوم ملااحمد دشتی کے فرزند غلام اعظم دشتی ودیگرنے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

لیاقت بلوچ نے کہاکہ سیاست دان بالغ نظری اورقومی ایجنڈا کے ساتھ مسائل کاادراک کریں کیونکہ ہم باتیں کچھ کرتے ہیں اورکرتے کچھ ہیں جبکہ ہم حقوق کی بات کرتے ہیں حقوق کے حصول کی بات بھی ، ووٹ کوعزت دو کانعرہ بھی لگاتے ہیں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ مارشل لاء اور سول ملٹری بالادستی پاکستان کووارہ نہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ پرموجودہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیوں مداخلت کرتی ہے ہم اس پربھی غور کریں ، انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک دینی وسیاسی جماعتیں ایک قومی ایجنڈا پر متفق نہیں ہوتے اور رول آف لاء یقینی نہیں بناتے تب تک سیاست اسی طرح تقسیم اورجمہوریت خطرے میں رہے گی انہوں نے کہاکہ ہم دینی قوتوں کومتحدکرکے آگے بڑھ رہے ہیں ، ایم ایم اے پاکستان کے عوام کوایک بہتر مستقبل دے گی ، انہوں نے جماعت اسلامی اور علاقہ کیلئے ملااحمددشتی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ جب میں1974ء میں پہلی بار تربت آیا تو ملااحمددشتی جماعت اسلامی کے کارکن تھے اور مرتے دم تک جماعت کیلئے کام کرتے رہے ان کی وفات سے جماعت اسلامی اور علاقے میں ایک بڑا خلاء پایا جاتاہے ملااحمددشتی ایک خوشگوار شخصیت کے مالک ،برداشت ،ہنستے مسکراتے اور سخت ترین حالات میں بھی استقامت کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے وہ ایک جفاکش انسان،اپنی ذات میں انجمن اوراللہ تعالیٰ کے دین سے پیارکرنے والے شخصیت تھے وہ نظریاتی بنیادوں پر جماعت اسلامی سے وابستہ تھے وہ مولانا مودودی سے سراج الحق تک تمام امراء کے ساتھ بطورکارکن کام کرچکے ہیں وہ ایک مردمجاہدتھے وہ ہرمحاذ پر ڈٹے تھے ، تعزیتی ریفرنس سے بی این پی عوامی کے مرکزی سنیئرنائب صدرسیداحسان شاہ نے خطاب کرتے ہوئے ملااحمددشتی کی سیاسی وسماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملااحمددشتی مرحوم علاقہ کی پہچان اور غریب ودکھی عوام کے مسیحا تھے ان کی وفات سے کیچ کے عوام ایک ہمدرد مخلص مسیحا سے محروم ہوگئے۔