بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اورعوام نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، ارکان اسمبلی

جب سے طلباء تنظیموں پر پابندی لگی ہے اچھے سیاستدان پورے نہیں ہورہے،ملک کے مستقبل کی ذمہ داریاں ان طلباء وطالبات کی منتظر ہیں اور یہی معمار ملک کی مٹی کے لئے اپنا فریضہ ادا کریں، اجلاس کے دوران اظہار خیال

منگل اپریل 21:16

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت 45منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس میں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے 250طلبہ و طالبات بھی موجود تھے جنہوں نے ایوان کی کارروائی دیکھی اور پورے ایوان نے ملک بھر سے آئے ہوئے طلباء و طالبات کو خوش آمدید کہا ۔ اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی پارٹی ، اپوزیشن بلکہ پورے ایوان کی جانب سے ملک کے مختلف کالجز سے آئے ہوئے طلباء و اساتذہ کو خوش آمدید کہتاہوں ۔

ملک کے حوالے سے یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ طلباء وطالبات پارلیمنٹ اور اسمبلی کی کارروائی دیکھیں کینیڈا میں جب بھی اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے تو وہاں طلباء وطالبات شرکت کرتے تھے انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کی ذمہ داریاں ان طلباء وطالبات کی منتظر ہیں اور یہی معمار ملک کی مٹی کے لئے اپنا فریضہ ادا کریں اور آنے والے وقت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھیں ۔

(جاری ہے)

امید کرتے ہیں کہ یہ قوم کی نمائندگی کریں گے ۔ صوبائی وزیر پرنس احمد علی نے حکومت کی جانب سے طلباء وطالبات اور اساتذہ کو ایوان میں آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ ملک بھر سے طلباء وطالبات بلوچستان اسمبلی کی کارروائی دیکھ رہے ہیں کیونکہ ملک کے آئین کا مستقبل ایوانوں سے بنتا ہے یہ ہمارا مستقبل ہے ۔اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک روایت ہے کہ بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں مگر آج ہم مستقبل کے معماروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات بہت بہتر ہیں اور ہماری قبائلی روایات ہیں کہ ہم اپنے مہمانوں کا اپنی جانوں سے زیادہ خیال رکھتے ہیں نیشنل پارٹی کے رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ملک کے مختلف اداروں سے آئے ہوئے طلباء وطالبات کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ بلوچستان کے حالات پر گہری نظر رکھیں اور بلوچستان کی تاریخ انہیں پتہ ہونا چاہئے ہم جمہوری لوگ ہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اورعوام نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں جب سے طلباء تنظیموں پر پابندی لگی ہے اچھے سیاستدان پورے نہیں ہورہے اس دوران عبیداللہ بابت نے لاہور کے موچی گیٹ پر جلسے کے حوالے سے بات کی تو سپیکر نے معزز رکن کا مائیک بند کردیا ۔

سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اسمبلی کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے رہیں ایوان میں خضدار کے علاقے نال میں خسرے کے وباء سے متعلق مشترکہ تحریک التواء اپوزیشن رکن رحمت صالح بلوچ نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک خسرے سے دو افراد جاں بحق اور دس افراد متاثر ہوئے ہیں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے جب سے نئی حکومت آئی ہے محکمہ صحت کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے ہم ان خاندانوں سے دلی ہمدردی کااظہار کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ پورے سسٹم کو ایک سازش کے تحت جام کیا گیا ضلع خضدار کے علاقے نال میں تمام تر مہلک بیماریوں کے باوجود کوئی مہم نہیں چلائی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے محکمہ صحت نے کوئی کردار ادا کیا ہے پورے صوبے کے ہرضلع میں محکمہ صحت کے افسران کو نئی گاڑیاں اور ورکرز کو موٹرسائیکلیں فراہم کی گئیں مگر تمام ترحالات کے باوجود عدم توجہی اور غیر ذمہ داری کا رویہ قابل افسوس ہے حکومت فوری طور پر مالی بحران دے اور وزیر صحت کو معلوم نہیں کہ مذکورہ علاقوں میں ٹیمیں گئی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوری طو رپر کارروائی کی جائے اور تحریک کو بحث کے لئے منظور کیا جائے ۔

وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے تحریک التواء پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سے غفلت برتی گئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تمام اضلاع میں ویکسین پہنچا دی گئی ہے اور سیکرٹری صحت کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ فوری طو رپر ٹیمیں روانہ کردی جائیں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اگر مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے تو ہنگامی بنیادوں پر ٹیمیںروانہ کردی جائیں اور وہاں کے عوام کو ریلیف دیا جائے انسانی زندگیوں کو بچانے کے لئے محکمہ صحت کو فوری طو رپر پابند کیا جائے اپوزیشن رکن یاسمین لہڑی نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بچوں سے متعلق دلچسپی نہیں ہے اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں دنیا ترقی کرگئی اور ہم آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں ۔

صوبائی وزیر پرنس احمد علی بلوچ نے کہا کہ خسرے کی بیماری ہر علاقے میں پھیل گئی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی روک تھام ضروری ہے بعد میں مشترکہ تحریک التواء کو27اپریل کے اجلاس میں بحث کے لئے منظور کیا گیا ۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات غلام دستگیر بادینی نے بلوچستان کچی آبادی کی مستقلی اور کچی آبادی کے ڈھانچے کی ترقی کا مسودہ قانون مصدرہ2018ء ایوان میں پیش کیا جسے ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا ۔

سپیکر راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم مسودہ قانون ہے اس پر فوری طور پر قائمہ کمیٹی کام شروع کردے جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئر مین مفتی گلاب خان نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کمیٹی میں سینئر اراکین ہیں مگر وہ کمیٹی کے اجلاسوں میں دلچسپی نہیں رکھتے نئے اراکین کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ اس کو آئندہ اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے سپیکر راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں اراکین کا شرکت نہ کرنا باعث افسوس ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ مسودے کے حوالے سے اراکین فوری طور پر اجلاسوں میں شرکت کرکے اس پر غور کریں ۔

اجلاس میں مجلس قائمہ برائے آبپاشی و توانائی ، ماحولیات ، جنگلات و جنگلی حیات کی چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر غوروخوض کی بابت مجلس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے اراکین آغا سید لیاقت اور نصراللہ زیرئے نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے لئے وقف کردہ زمینوں کے ح.الے سے وعدے کئے گئے کہ جن اقوام کی زمین ہے ملازمتیں بھی ان کے افراد کو ہی ملیں گے مگر اس پر عملدآمد نہیں ہورہا اس لئے رپورٹ کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ از سرنو اس کا جائزہ لے بعدازاں سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے ایوان کی مشاورت سے مذکورہ رپورٹ کے حوالے سے آغا سید لیاقت کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد اسے 30اپریل کے اجلاس میں دوبارہ پیش کرنے کی رولنگ دی ۔

اجلاس میں 19اپریل کی نشست میں باضابطہ شدہ مشترکہ تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ مسیحی برادری پر گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ میں متعدد حملے ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے پہلا واقعہ زرغون روڈ چرچ پر پیش آیا جس کے بعد اب تک متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں ہمارے ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی ایک طویل تاریخ ہے ایسے ہی واقعات میں ملک بھر سمیت کوئٹہ میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے خود کش حملوں ، ٹارگٹ کلنگ اور انتہا پسندی کے دیگر واقعات کا سلسلہ نیا نہیں اس کی بنیاد جنرل ضیاء الحق کے دور میں انتہا پسندی کے فروغ سے شروع ہوا ملک بھر سمیت پشتون سرزمین پر بڑے بڑے واقعات پیش آئے جن کے پیچھے انہی پالیسیوں کا ہاتھ ہے جن کو ماضی میں حکمرانوں نے افغانستان میں مداخلت کے لئے اپنا یا تھا اور مسیحی برادری کو بھی نشانہ بنانا اسی کی کڑی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ نے ارکان کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ایسا نہیں ہوا چیزوں کو چھپا کر ہم آگے نہیں چل سکتے یہاں کوئی طبقہ محفوظ نہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا ضروری ہے تمام دہشت گردوںکے خلاف بلا تمیز یکساں کارروائی کی جائے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ آج پشتون تحفظ موومنٹ فاٹا میں اسی قسم کی صورتحال کے خلاف احتجاج کررہی ہے ابھی ان کی بات جاری تھی کہ نیشنل پارٹی کے رہنماء سردار اسلم بزنجو نے صوبائی وزراء اور حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پر شدید رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں امن وامان جیسے اہم مسئلے پر بحث ہورہی ہے مگر حکومتی بینچز خالی پڑے ہیں ہم کس سے بات کریں ہماری بات کون سنے گا اس موقع پر سردار اسلم بزنجو اور کشور احمد جتک نے کورم کی نشاندہی کی۔

کورم پورا نہیں تھا جس پر چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کورم پورا کرنے کے لئے پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی بعدازاں انہوں نے اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کرنے کی رولنگ دی ۔ پندرہ منٹ بعد جب اجلاس شروع ہوا تو بھی کورم پورا نہ تھا جس پر انہوں نے اسمبلی کا اجلاس 27اپریل شام چار بجے تک کے لئے ملتوی کردیا ۔