حکومت نے مارشل لاء نماء ایکٹ کی زنجیروں میں پرائیوٹ ایجوکیشن سیکٹر کو باندھ رکھا ہے،پرائیویٹ ایجوکیشن ایسوسی ایشن

منگل اپریل 21:26

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) حکوت نے ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی آزاد حیثیت کا خاتمہ کرکے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور ہمیں مارشل لاء نماء ایکٹ کی زنجیروں میں باندھ دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فرنٹیر ایجوکیشن فائونڈیشن کے ایکٹ 1992کو غیرمئوثراور غیر فعال رکھ کرپرائیوٹ تعلیمی اداروں کی ترقی کے دروازے بند کردئیے گئے ان خیالات کااظہار پرائیوٹ ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے صدرنواز خان سمیت دیگر عہداروں نے پشاور پریس کلب میںمشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے خیبرپختونخوااسمبلی سے پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق پاس شدہ ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے نجی سیکٹر کو اعتماد میں لئے بغیرقانون سازی کی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ نجی تعلیمی ادارے تعلیم کو عام کرنے میں اہم کردار اداکر رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی کمزور ہے حکومت نے مارشل لاء نماء ایکٹ کی زنجیروں میں پرائیوٹ ایجوکیشن سیکٹر کو باندھ رکھا ہی انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دو ماہ کے تعطیلات میں آدھی فیس وصول کرنے کے صورت میں اساتذہ کی تنخواہیں،بلدنگ رینٹ اور دوسرے اخراجات پوری نہیں ہوسکتی حکومت اگر سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو تنخواہیں ادا کر سکتی ہیں تو پرائیویٹ سکولوں کو بھی ادا کرے انہوں نے کہا کہ سالانہ تعلیمی بجٹ میں پرائیویٹ سکولوں کو بھی 50فیصد حصہ دیا جائے تاکہ تعلیمی بجٹ تعلیم ہی پر خرچ ہو سکے انہوں نے بتایا کہ پوری پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں کی نصاب سرکاری سکولوں سے مختلف ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت این جی اوز کے ایماء پر سرکاری سکولوں کیلئے بنائی گئی نصاب اب پرائیویٹ سکولوں میں بھی پڑھانے کیلئے قانون سازی کی ہیں جو ہمیں کبھی قبول نہیں ہیں پرائیویٹ سکولوں کی نصاب کئی گناہ بہتر اور مغیاری تعلیم کی فراہم کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اپنے مطالبات کیلئے پوری صوبے میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھے نگے۔