سندھ میں صحت عامہ صفائی تعلیم کی صورتحال ابترہے ،پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم نے بحران کی صورتحال اختیار کرلی ہے، فیصل ندیم

پانی کی قلت کی وجہ سے زمینیں بنجر بنتی جارہی ہیں،سندھ کے اندر پینے کا صاف پانی میسر نہیں ، شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں روڈ راستے سفر کے قابل نہیں، اس وقت سندھ کے عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے ،سندھ کے ا ندر احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

منگل اپریل 21:31

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) ملی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما ء فیصل ندیم نے کہا ہے سندھ میں صحت عامہ صفائی تعلیم کی صورتحال ابترہے ،،پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم نے بحران کی صورتحال اختیار کرلی ہے، پانی کی قلت کی وجہ سے زمینیں بنجر بنتی جارہی ہیں،،سندھ کے اندر پینے کا صاف پانی میسر نہیں ، شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں ،روڈ راستے سفر کے قابل نہیں، اس وقت سندھ کے عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے ،،سندھ کے ا ندر احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

وہ ملی مسلم لیگ کے دورہ سندھ کے موقع پر ورکر کنونشن سے خطاب کررہے تھے، فیصل ندیم نے کہا کہ ملی مسلم لیگ سندھ کے عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر آئی ہے ، ہم نے طوفانوں سیلابوں میں سندھ کے باسیوں کی خدمت کر کے ثابت کیا ہے کہ ہم خدمت انسانیت کا جذبہ لے کر سیاست کے میدانوں میں آئے ہیں ، انہوں کہا کہ سندھ کے باسیوں نے محبت چاہت کے ساتھ قومی پرچم تھاما ہے ہمیں جب بھی موقع ملا تو ہم نے سندھ میں نظام تعلیم کو بہتر بنانا ہے ،،سندھ کے اند رصفائی ستھرائی کے نظام کو بہترکرنے کی ضرورت ہے، سندھ کے باسیوں کو نہری پانی کے قلت کا سامنا ہے وہ دور کریں گے ،،پانی کی منصفانہ تقسیم کریں گے، سندھ کے موجودہ حالات کو بدلنا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ اسلام کی دھرتی ہے اسلام کا بر صغیر میں یہاں سے آغاز ہوا تھا آج بھی اس سر زمیں کو باب اسلام کا اعزاز ملا ہوا ہے ، ہم نے ملکر اس اجڑے گلشن کو آباد کرنا اور سنوار نا ہے ،ہم سندھ سطح پر ضلعی کنوینر بناکر سندھ کے اندر ملی مسلم لیگ کا نیا سیٹپ تشکیل دیاہے، اس کے بعد صوبائی ذمہ داران ، بھی مقرر کرنے ہیں اس کے علاوہ ہم نے تحصیلی یوسی سطح تک کے اپنے ذمہ داران مقرر کرنے ہیں، انہوں نے کہا ہم نے تمام ترجماعتوں کو ساتھ ملا کر چلائیں گے ‘ ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے مراحیل بھی طئے کیئے جارہے ہیں، اور یہ مستقبل میں ان شاء اللہ ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی، ماضی اور موجودہ حالات میں سندھ کو لسانی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازشیں کی گئی ،ایک دوسرے کے دست وگریباں میں ہاتھ ڈالے گئے ،لسانیت کی بنیاد پر خون خرابہ کیا گیا ،ملی مسلم لیگ سندھ میں ان لسانی فتنوں کے سامنے ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی سازش کا حصہ نہیں بننا ہم سب مل کر قومیت عصبیت کے یہ بت گرائیں گے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر میثاق مدینہ کا عملی مظاہرہ پیش کریں گے ،ہم ہر قسم کے تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی نفی کرتے ہیں اورنظریہ پاکستان کو فروغ دینے والی سوچ کو سیاست میں لا کر سندھ کے معاشرے کو پر امن بنانے کی خواہاں ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کی حالت زار کو دیکھا جائے ، حیدر آباد کو مثال سمجھا جائے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا گیا ، سندھ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے ،یہاں کرپشن کا بازار گرم ہے کسی بھی شہری کو بنیادی حق حاصل نہیں کہ وہ زندہ رہ سکے اس وقت سیاست کو انتقام کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،سیاسی ذمہ داروں عوام کی خدمت کے بجائے عوام کو مسائل میں الجھا رہے ہیں ،،سندھ کی اندر کوئی بھی ادارہ ایسانہیں جس نے کرپشن نہ کی ہو ، مگر مل کر اس معاشرے کی بہتری کا کردار ادا کریں گے۔