یوایس ایڈ کے زیراہتمام صاف توانائی کے فروغ سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد

منگل اپریل 21:33

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے زیر اہتمام ایک ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اور درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلی عہدے دار، منصوبے لگانے والے اداروں کے نمائندے، سرمایہ کار،، صنعتی مشیر، ریگولیٹر، عطیہ دینے والے اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد شامل تھے۔

اس ورکشاپ نے ایک ایسا فورم فراہم کیا جس کے ذریعے پاکستان بھر میں صاف توانائی کے فروغ کے لیے عالمی معیار کے مطابق فریم ورک تشکیل دیا جاسکے۔ یو ایس ایڈ کے ڈپٹی مشن ڈائریکٹر برائے سندھ و بلوچستان جون اسمتھ سرین نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے توانائی کے شعبے کے فروغ کے لیے یو ایس ایڈ کی تاریخی کوششوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ" پاکستانی حکومت اور نجی شعبے سے ہمارے برسوں کے تعاون کا نتیجہ ہے کہ آج تین کروڑ اسی لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا معیار زندگی بلند اور ان کا مستقبل روشن ہوا ہے۔

(جاری ہے)

" ان کا مزید کہنا تھا کہ " ہمیں یقین ہے کہ نجی شعبہ جدید، کارگر اور کم لاگت کے طریقوں کے ذریعے پاکستان بھر میں گھروں اور کاروباروں کو توانائی کی فراہمی میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم صاف توانائی کے شعبے میں مہم کاری کرنے والوں کے لیے صلے اور ترغیبات کا ماحول ضروری ہے۔ آج ہم نے جو کچھ سیکھا اس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے سرکاری اداروں اور نجی شعبے کو درکار وسائل کے تعین میں مدد ملے گی۔

افتتاحی سیشن کی صدارت سندھ کے سیکریٹری توانائی آغا واصف عباس نے کی۔ انھوں نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس شعبے میں اصلاحات کے ذریعے اسے مستحکم اور فعال بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اس ورکشاپ کا انعقاد یو ایس ایڈ کے "سسٹین ایبل انرجی فار پاکستان (SEP)" منصوبے کے تحت کیا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں صاف اور پائیدار توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔