ڈی ایم اوکسی صورت تسلیم نہیں، حکومت اعتمادمیں لیکر قانون ساز ی کرے،پین

منگل اپریل 21:44

نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک ( پین) نوشہرہ کینٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کیلئے ڈی ایم او کو یکسر مسترد کردیا اور ڈی ایم او کو تعلیم دشمن پالیسی وعہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی ایم او کسی صورت تسلیم نہیں حکومت نجی تعلیمی اداروں کیلئے پالیسیاں تشکیل دیتے وقت نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو اعتماد میں لیاکریں خیبرپختونخوا حکومت تعلیمی اداروں کو ایک سازش کے تحت بیرونی این جی او ز کے تحت چلانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے اگر صوبائی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کیلئے ڈی ایم او کا فیصلہ واپس نہ لیا تو خیبر پختونخوا بھر کے تما م نجی تعلیمی ادارے ایجوکیشن ریگولرٹی اتھارٹی کو بھی ماننے سے انکار کردیں گے دو دن کے ہڑتال کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل صوبائی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) کے صوبائی رہنما فضل اللہ داودزئی ، پین کے صوبائی کو ارڈینیٹر راشد مقبول ، پین نوشہرہ کینٹ کے صدر اختر نواز، سیف الااسلام ، قاضی فضل حکیم ، عمر حیات ، شاہد خان اور طاہر خان نے نوشہرہ پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی سازشوں میں لگی ہوئی ہے اور ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت ڈی ایم او کو وسیع اختیارات دے کر نجی تعلیمی اداروں پر مسلط کیاجارہا ہے جس میں سیاسی مداخلت کا بھی اندیشہ ہوسکتا ہے اس لئے ہمیں یہ منظور نہیں ڈی ایم او کی جگہ اے ڈی اوز کو اختیارات دئیے جائیں کیونکہ و ہ پروفیشنلز ہیں ہمیں پروفیشنلز پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ایرے غیرے کی ایماء پر تعلیمی پالیسیاں نہ منظور انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور ان سے ہمدردانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات و گذارشات پر غور کرکے نجی تعلیمی اداروں کے مشکلات کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ نجی سکولوں میں سارا بگاڑ صوبائی حکومت نے پیدا کیا ہوا ہے اور بلا جواز مداخلت سے اساتذہ اور طلبا و طالبات کو شدید زہنی کوفت سے دو چار ہیں سرکاری سکولوں کا تو یہ حال ہے کہ بڑے بڑے افسر بھی اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں داخل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 90%نجی سکول کم از کم فیسوں پر بچوں کو بہتر تعلیم دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں بھی جبری رعایت کی کوئی مثال نہیں ملتی لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت نجی تعلیمی اداروں چھٹیوں کے دوران آدھا فیس کی وصولی پر مجبور کررہی ہے ہم چھٹیوں کے دوران بھی اساتذہ کو تنخواہیں ادا کر رہے ہیں