کمزور بیانیہ والے حکمران عوام پر حکمرانی کا حق نہیں رکھتے، میاں افتخار حسین

مجھے سیکورٹی دینے کا فیصلہ موجودہ حکومت کی کابینہ کا تھا ، سروے کر کے سیکورٹی فراہم کی گئی تھی شروع دن سے مجھے ملنے والی سیکورٹی منتخب ممبران کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی،ڈی آئی جی پر دباؤ رہا،سیکرٹری جنرل عوامی نیشنل پارٹی

منگل اپریل 21:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مجھے سیکورٹی دینے کا فیصلہ موجودہ حکومت کی کابینہ کا تھا اور جن شخصیات کو خطرات تھے ڈسٹرکٹ کی سطح پر سروے کر کے انہیں سیکورٹی فراہم کی گئی تھی جبکہ آئی جی پی نے صورتحال کی نزاکت کا ادراک کئے بغیر حکم پر عمل درآمد کیا اور سیکورٹی واپس لے لی، یو نین کونسل ڈاگ بیسود میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب صوبے میں دہشت گردی کا بازار گرم تھا اور ہر طرف لاشیں گرائی جا رہی تھیں اس دوران مجھ پر کئی بار حملے ہوئے جبکہ میرے اکلوتے بیٹے کو شہید کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ بیٹے کی شہادت کے فوراً بعد میرے گھر پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں 7 افراد شہید ہو گئے، انہوں نے کہا کہ شروع دن سے مجھے ملنے والی سیکورٹی منتخب ممبران کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی اور اس سے قبل بھی اسے ہٹانے کیلئے ڈی آئی جی پر دباؤ ڈالا گیا تاہم ان کی جانب سے تحریر مانگنے کے بعد خاموشی چھا گئی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سے حکومت کی کارگزاری بارے استفسار کیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے جو حکومت اپنا مؤقف بیان نہیں کر سکتی اسے عوام پر حکمرانی کا حق نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب چیف جسٹس نے سیکورٹی واپس کرنے کا حکم دیا تو مجھ سے لئے گئے گارڈز میں سے صرف دو مجھے واپس کئے گئے ،انہوں نے کہا کہ حکومت کے خاتمے میں صرف دو ماہ باقی ہیںاس کے بعد یہ وزیر اعلیٰ اپنی کرسی پر نہیں ہو گا،،سینیٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کی20 ممبران ضمیر بیچ دیں اس جماعت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ،اور عجیب صورتحال یہ ہے کہ ووٹ فروخت کرنے کا الزام لگا کر پہلے ممبران کو پارٹی سے نکالا گیا بعد میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کئے گئے،انہوں نے کہا کہ پہلے بجٹ پیش نہ کرنے کا واویلا کیا گیا اور آج یو ٹرن لیتے ہوئے پھر سے بجٹ پیش کرنے کا اعلان کر دیا گیالیکن یہ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے کیونکہ حکومت کے پاس ممبران کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں ، انہوں نے سی پیک کے حوالے سے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کے ساتھ دھوکہ ہوا اور سی پیک کو چائنہ پنجاب اکنامک کوریڈور بنا دیا گیا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سی پیک پختونوں کیلئے معاشی انقلاب ہے جس سے پختونوں کو محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی میدان میں کھڑی ہے اور جو عناصر 18ویں ترمیم کے خاتمے یا اس میں کسی ردو بدل کی بات کر رہے ہیں انہیں اپنے مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تنظیمیں مضبوط ہیں اور کارکن آئندہ الیکشن کی تیاریوں کا آغاز کر دیں ، انہوں نے کہا کہ موجودہ ھکومت کی ناکام اور ناٴْس پالیسیوں کے باعث ان سے متنفر ہو چکے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔