عدالت پر ایک ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے ،جوڈیشری کسی صورت اداروں میں تصادم نہیں ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

ہمارے چیف جسٹس فنڈامینٹل رائٹس کیلئے کوشاں تھے اسے جان بوجھ کر عدلیہ مخالف ماحول پیدا کیا گیا، سرکٹ ہائوس سکھر میں میڈیا سے گفتگو

منگل اپریل 21:52

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ وسابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت پر ایک ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے ،جوڈیشری کسی صورت اداروں میں تصادم نہیں بلکہ اداروں کی مظبوطی اور بہتر کارکردگی پر یقین رکھتی ہے، ہمارے چیف جسٹس فنڈامینٹل رائٹس کیلئے کوشاں تھے اسے جان بوجھ کر عدلیہ مخالف ماحول پیدا کیا گیاان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکٹ ہائوس میں زرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ توصیف حسن کے لیٹر کے حوالے سے افتخار چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا،جوڈیشل مارشل لاء کے عنوان سے جاری کردہ پیپر کے مصنف توصیف حسن ہیں،توصیف حسن پیپر میں سوموٹو کسیز کے حوالے سے لکھا گیا ہے،لیٹر سے تاثر دیا گیا کہ ملک میں عدالتی مارشل لاء لاگو ہے،لیٹر میں سسٹم کے حوالے سے ایسی بات کہی ہے جس کا کوئی وجود نہیں،کچھ لوگ شاید اداروں کو یہاں کام نہیں کرنا دینا چاہتے ہیں،افراتفری پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں،جوڈیشل مارشل لاء بازگشت تھی جس چیف جسٹس نے خود تردید کی جوڈیشل کیا کوئی بھی مارشل لاء نہیں لگے گی انہوں نے کہا کہ یقین ہے یہ لیٹر مسلم لیگ کی جانب سے ہی جاری کیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

لیٹر کا آخری جملہ بہت الارمنگ ہے جس کی شدید مذمت کرتا ہوں،جو آدمی جے آئی ٹی سے متاثر ہوا وہی یہ لیٹر نکلوا سکتا ہے،،نواز شریف اپنا کردار بھول گئے سجاد علی شاہ پر حملہ کیا،،نواز شریف نے جوڈیشری کے حکم پر ہی واپس ملک میں لینڈ کیا تھا،،نواز شریف کے حق میں فیصلے آئیں تو عدلیہ کا کردار ٹھیک ہوتا ہے،بدقسمتی سے 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے لیکن تعلیم کے لیئے بجٹ نہیں رکھا جارہا ہے قبل ازیں پریس کانفرنس انہوں نے سکھر میں نجی اسکول کی تقریب میں شرکت کی اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تعلیمی ادارے ملک کی ترقی اور بہتری کے لیئے بنیادی کردار ہیں،شہری علاقوں کے علاوہ دیہاتوں میں اسکولوں کی عمارتیں وڈیروں کے استعمال میں ہیں،،تعلیم کی بہتری کے سوا قومیں ترقی نہیں کرسکتیں،سر سید نے کہا تھا کہ قوموں سے مقابلے کے لیئے حقیقی تعلیم ضروری ہے ،معیاری تعلیم کے لیئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگااختتام تقریب انہوں نے کہا کہ امتیاز دھاریجو اور نیاز کھوسو نے ہماری پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے خوش آمدید کہتے ہیں۔