سی پی او راولپنڈی کے احکامات نظر انداز

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے تاجروں سے بھتہ مانگنے اور انکار پر جھوٹے مقدمات درج کرنے والے پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے حقائق پر پردہ ڈالنا شروع کر دیا

منگل اپریل 21:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سی پی او راولپنڈی کے احکامات نظر انداز ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے تاجروں سے بھتہ مانگنے اور انکار پر جھوٹے مقدمات درج کرنے والے پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے حقائق پر پردہ ڈالنا شروع کر دیا، سی پی او راولپنڈی افضال کوثر کے نام ٹیکسلا کے تاجر زبیر شاہ کی درخواست پر شفاف انکوائری کے احکامات جاری کئے گئے لیکن جسے نظر ا نداز کر دیا گیا متاثرہ شہری کی درخواست کے متن کے مطابق تھانہ ٹیکسلا پولیس کی جانب سے دو جھوٹے مقدمات درج کر کے کئی گھنٹوں حبس بے جا میں رکھا گیا ۔

شاہ بمر کس بھٹہ کے نام سے کام کرنے والے متاثرہ تاجر نے درخواست میں بتایا سب انسپکٹر سکندر حیات جو کہ سال 2016 سے مسلسل بھتے کے چکر لگاتا رہا اور سائل کو بلا وجہ تنگ وہراسا ں کرتا رہا بعدازاں 10 اپریل 2018 کی رات تھانہ واہ کینٹ کی حدود میں واقع بھتے سے گن پوائنٹ پر اٹھا کر تھانہ ٹیکسلا کی حوالات میں بند کر دیا اس حوالے سے سی پی او راولپنڈی کے حکم پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن امیرعبداللہ نیازی نے انکوائری کے بعد پیٹیبھائیوں کو بچانے کی کوشش شروع کر دی ہے اور درخواست گزار کو ہراساں کرتے ہوئے دوران انکوائری کہا کہ آپ منشیات کا کام کرتے ہو جس پر متاثرہ تاجر نے دوران انکوائری کیوں نہیں کرتی مجھے ایس ایچ او کے گھر کیلئے اینٹیں نہ دینے اور پیسیدینے سے بھی ا نکار کے بعد اٹھایا گیا۔

(جاری ہے)

آن لائن کے رابطے یہ متاثرہ تاجر کا کہنا تھا کہ پولیس افسران نے زیادتی کی تمام حدیں کراس کر دی ہیں اس کے لئے اگر سپریم کورٹ بھی رجوع کرنا پرا کروں گا متاثر تاجر زبیر شاہ ولد عبدالرؤف کا مزید کہنا تھا کہ رات گئے حبس میںرکھنے کے بعد50 ہزار روپے بھتے کا مطالبہ کیا جاتا رہا میرے ڈیل کرنے سے ا نکار کے بعد میرے خلاف ناجائز اسلحہ سمیت دو مقدمات درج کر دیئے گئے جس میں برآمدگی کچھ بھی نہیں ہوئی بھتہ دینے سے انکار کے بعد جیل کی ہوا کھا کر واپس آنے والے تاجر کا کہنا تھا کہ جامعہ تلاشی کے دوران اس کی حیب سے 39 ہزار دو سو ستر روپے نکالے گئے جبکہ کاغذی کارروائی میں مجھے واپس 27 ہزار5 سو دس کئے گئے سی پی او راولپنڈی کے احکامات پر میرٹ پر انکوائری نہ کرنے اور بڑے بھائیوں کو بچانے کے لئے کوشش کے حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور سی پی او راولپنڈی سے موقف جاننے کے لئے کئی بار رابطوں کے بعد آپریٹر سی پی او جس نے بعد ازاں عاصم کے نام سے تعارف کروایا اور بتایا ہے کہ میٹنگ میں مصروفیات کی وجہ سے تاحال بات کرنا ممکن نہیں ہے۔