قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا واک آؤٹ

پنجاب کو تمام صوبوں سے زیادہ ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا جاتا ،ْمراد علی شاہ موجودہ حکومت مئی میں ختم ہو گی اور آئندہ مالی سال کا پی ایس ڈی پی موجودہ حکومت نہیں بنا سکتی ،ْ میڈیا سے گفتگو قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ہماری سفارشات نہیں مانگی گئیں ،ْاپنی مرضی کی سفارشات شامل کی گئیں ،ْ پرویز خٹک

منگل اپریل 22:38

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا واک آؤٹ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے تحفظات کے باعث واک آؤٹ کیا۔ منگل کو قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق صوبوں کے سالہ بجٹ اور ترقیاتی پروگراموں پر تحفظات کے باعث سندھ،، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔واک آؤٹ کے بعد تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب کو تمام صوبوں سے زیادہ ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔

(جاری ہے)

مراد علی شاہ نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی پر بحث ہوئی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مئی میں ختم ہو گی اور آئندہ مالی سال کا پی ایس ڈی پی موجودہ حکومت نہیں بنا سکتی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے تحفظات کے باعث قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے واک آوٹ کیا جس کے بعد اجلاس کا کورم ٹوٹ گیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ہماری سفارشات نہیں مانگی گئیں اور اپنی مرضی کی سفارشات شامل کی گئیں۔۔پرویز خٹک نے کہا کہ اجلاس میں کہا کہ آپ ہمارے ساتھ انصاف نہیں کر رہے، پہلے بھی ہمارے ساتھ یہی دھوکہ ہوتا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے کہا کہ اگر ہماری سفارشات نہیں ماننی اور اپنی مرضی کی سفارشات ہی شامل کرنی ہیں تو پھر قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت ہے۔