سپریم کورٹ، عطاء الحق قاسمی کی ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کے حوالے سے کیس میں سابق ایم ڈی کوآڈٹ رپورٹ پراعتراضات جمع کرانے کی ہدایت

منگل اپریل 22:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی کی تقرری کے حوالے سے کیس میں سابق ایم ڈی کوآڈٹ رپورٹ پردوہفتوں میں اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی ہے۔ منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر مقامی آڈٹ فرم نیسابق چیئرمین پی ٹی وی کی تنخواہ اورمراعات کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ عطاء الحق قاسمی کو چئیرمین پی ٹی وی کے طورپر تین گاڑیاں دی گئی تھیں، ان کو اسلام آباد کلب کی ممبرشپ کے لئے انٹرٹینمنٹ فنڈز سے 1.5 ملین روپے دیے گئے جبکہ دوسال کے دوران ان کوانٹرٹینمنٹ کیلئے کل 2.3 ملین روپے دیئے گئے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرٹینمنٹ کیلئے جن پندرہ لاکھ روپے کابتایا جارہا ہے ،کیا عطاالحق قاسمی اس رقم کے حق دار تھی آڈٹ فرم کے نمائندے نے عدالت کومزیدبتایا کہ عطاوالحق قاسمی نے مختلف مواقع پرگیسٹ ہاؤس قیام کیا جس پر سرکاری خزانے سے 2.1 ملین روپے خرچ کئے گئے، جس پرچیف جسٹس کاکہنا تھاکہ ہم اس امرکاجائزہ لیں گے کہ عطاالحق قاسمی کی تقرری قانون کے مطابق ہے یا نہیں ، سوال یہ ہے کہ جورقومات اداکی گئی ہیں،کیا اتنی رقم دینا درست ہے،عطاالحق قاسمی کو جو فنڈز دیے گئے، یہ انہیں دینا ہوں گے ورنہ جس نے ان کی تقرری کی ہے اسے دینا پڑیں گے،بتایا جائے کہ پرویز رشید صاحب کہاں ہیں، شاید انہیں یہ پیسے ادا کرنا پڑجائیں، عدالت کے استفسارپرآڈٹ فرم کے نمائندے نے مزیدبتایا کہ عطاالحق قاسمی پر 2 سال میں 20کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں، عدالت نے عطاالحق قاسمی کو آڈٹ رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ عطاالحق قاسمی آڈٹ رپورٹ پر دو ہفتوں میں اعتراضات داخل کریں، بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔