سپریم کورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو الیکشن کمشن کی طرف سے سرکاری بھرتیوں پر پابندی سے متعلق تمام درخواستوں کی سماعت کرنے کا حکم

منگل اپریل 22:52

سپریم کورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو الیکشن کمشن کی طرف سے سرکاری ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کی طرف سے سرکاری بھرتیوں پر پابندی سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو تمام درخواستوں کی سماعت کرنے کاحکم جاری کر دیا ہے اورکہا ہے کہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرکے فیصلہ سنائے۔

منگل کوچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرچیف جسٹس نے کہاکہ ہر طرح کی نوکریوں پر پابندیاں عائد کرنے کی کوئی وضاحت نہیں ہو رہی کہ ایساکیوں کیا گیا ہے اور گریڈ ایک سے اعلیٰ گریڈ تک بھرتیوں پر کیوں پابندی لگا ئی گئی ہے، جس پرسیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ ہمیں بھی مختلف شکایات آرہی ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ہم نے اس امر کاجائزہ لینا ہے کہ بھرتیوں پرپابندی عائد کرناالیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہے یا نہیں۔

سماعت کے دورا ن ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایاکہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کی پابندی کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ خیبرپختونخوا کی طرف سے بھی عدالت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت بھی الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کیخلاف درخواست دائر کرنے جارہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اب پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کو چیلنج کردیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کا بھی نوٹفکیشن چیلنج کرنے کاارادہ ہے۔

چیف جسٹس نے بھرتیوں پرپابنٰدی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سمیت دیگر انفرادی درخواستوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میںسماعت کے لئے مقرر کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواستوں کی سماعت کرکے ایک ہفتے میں فیصلہ سنائے، بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔