پشاور، حکومت نجی سیکٹر کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کرے،نیشنل ایجوکیشن کونسل

منگل اپریل 22:56

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) نیشنل ایجوکیشن کونسل پاکستان کے عہداروں نے خیبرپختونخواسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نجی سیکٹر کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کرے۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کونسل کے چیئرمین نذیرحسین،پرائیوٹ ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے صدرنواز خان،پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدراحمدعلی،فاٹاایجوکیشنکونسل کے چیئرمین مرتضیٰ حسین اور یگر ساتھیوں سمیت پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے تعلیم کو عام کرنے میں اہم کردار اداکر رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی کمزور ہے حکومت نے مارشل لاء نماء ایکٹ کی زنجیروں میں پرائیوٹ ایجوکیشن سیکٹر کو باندھ رکھا ہے ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے حکومت نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی آزاد حیثیت کا خاتمہ کرکے اپنی تحویل میں لے لیا ہے،فرنٹیر ایجوکیشن فائونڈیشن کے ایکٹ 1992کو غیرمئوثراور غیرفعال رکھ کرپرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ترقی کے دروازے بند کردئیے گئے،انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دو ماہ کے تعطیلات میں آدھی فیس وصول کرنے کی صورت میں اساتذہ کی تنخواہیں،بلدنگ رینٹ اور دوسرے اخراجات پوری نہیں ہوسکتے حکومت اگر سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو تنخواہیں ادا کر سکتی ہیں تو پرائیویٹ سکولوں کو بھی ادا کرے انہوں نے کہا کہ سالانہ تعلیمی بجٹ میں پرائیویٹ سکولوں کو بھی 50فیصد حصہ دیا جائے تاکہ تعلیمی بجٹ تعلیم ہی پر خرچ ہو سکے انہوں نے بتایا کہ پوری پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں کی نصاب سرکاری سکولوں سے مختلف ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت این جی اوز کے ایماء پر سرکاری سکولوں کیلئے بنائی گئی نصاب اب پرائیویٹ سکولوں میں بھی پڑھانے کیلئے قانون سازی کی ہیں جو ہمیں کبھی قبول نہیں ہیں پرائیویٹ سکولوں کی نصاب کئی گناہ بہتر اور مغیاری تعلیم کی فراہم کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اپنے مطالبات کیلئے پوری صوبے میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔