فیصل آباد ملک کی مجموعی برآمدات میں 38 فیصد جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 55 فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے

فیصل آباد چیمبر کے قائم مقام صدر شیخ فارو ق یوسف کا نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد میں زیر تربیت سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب

منگل اپریل 23:02

فیصل آباد ملک کی مجموعی برآمدات میں 38 فیصد جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات ..
فیصل آباد۔24 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر شیخ فارو ق یوسف نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد میں زیر تربیت 23 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد ملک کی مجموعی برآمدات میں 38 فیصد جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 55 فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے لیکن اب مسلسل پالیسی سازی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ حکومت ریسورس موبلائزیشن کیلئے ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھائے ۔انہوں نے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے قومی معیشت میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جہاں ہماری بہت سی تجاویز کو وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا وہاں 5 برآمدی شعبوں کو سیلز ٹیکس کیلئے زیرو ریٹ بھی قرار دے دیا ۔

اسی طرح 180 ارب روپے کے ٹیکسٹائل پیکیج کے علاوہ صنعتوں کو 24 گھنٹے بجلی اور گیس کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ متعلقہ ادارے کسی نہ کسی طرح پالیسی سازی کے دوران کوئی نہ کوئی ایسی شق ڈالنے میں ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان پالیسیوں سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات میں فرق اتنا زیادہ بڑھ گیا جوہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر برآمدات اور درآمدات کے فرق کو قابو کرنے کے سلسلہ میں اپنے طور پر غیر ملکی منڈیوں کیلئے تجارتی وفود بھیج رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم میں کمی کی بڑی وجہ پالیسیوں میںتسلسل کا فقدان اور کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں غیر معمولی اضافہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس وقت بجلی اور گیس کے ریٹ پورے ریجن میں سب سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میںدیگر ملکوں کی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر پارہیں اور ان میں مسلسل کمی آرہی ہے ۔

انہوں نے ٹیکسیشن کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کئی شعبے ٹیکس سے مستثنیٰ جبکہ اس کے برعکس دوسرے شعبوں پر ٹیکسوں کا سارا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا نظام یکساں اور کسی استثنٰی کے بغیر ہونا چاہیئے تاکہ معیشت کے تمام شعبے اپنی آمدن کے حساب سے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ فاروق یوسف نے کہا کہ حکومت کو پبلک سیکٹر میں چلنے والے تمام غیر منافع بخش اداروں کی فوری نجکاری کرنی ہو گی تاکہ قومی خزانے سے ان کا خسارہ پورا کرنے کی بجائے یہ رقم غربت کے خاتمے پر خرچ کی جا سکے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیسکو کی وصولیوں کی شرح 99 فیصد اور لائن لاسز ملک بھرسے کم ہیں لیکن نیشنل گرڈ سے منسلک ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں ہونے والی بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ ہم پر بھی ڈال دیا جاتا ہے جو کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ۔انہوں نے کہا کہ صارفین فیسکو کواچھی کارکردگی کی سزا نہ دی جائے بلکہ اس کی کارکردگی کے اعتراف میں ہمیں بجلی کا اضافی کوٹہ دیا جائے ۔

اس سے قبل سوال و جواب کی نشست میں 23 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھے جبکہ انجینئر رضوان اشرف ، مزمل سلطان، شیخ اشفاق احمد، رانا سکندر اعظم ، سید خالد شاہ ، عبیداللہ شیخ، چوہدری طلعت محمود، رانا اکرام اللہ اور سیکرٹری جنرل عابد مسعود نے ان کے جوابات دیئے۔ سابق صدر چیمبر شیخ اشفاق احمد نے ڈائریکٹنگ سٹاف ڈاکٹر فہیم جہانگیر خاں کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی جبکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد کی طرف سے بھی قائمقام صدر شیخ فاروق یوسف کو شیلڈ پیش کی گئی۔ آخر میں نائب صدر عثمان رؤف نے مہمانوں کا شکریہ اد ا کیا۔