اسلام آباد،مشترکہ مفادات کونسل اجلاس وزیراعظم اور چاروں وزراعلیٰ نے متفقہ طور پر پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری دیدی

وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح کے ادارے ’قومی واٹر کونسل‘ کے ذریعے پالیسی پر عمل درآمد اور نگرانی کی جائے گی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، وفاقی وزرا ء اور دیگر سینئر حکام کی شرکت

منگل اپریل 23:29

اسلام آباد،مشترکہ مفادات کونسل اجلاس وزیراعظم اور چاروں وزراعلیٰ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) مشترکہ مفادات کونسل نے وزیراعظم اور چاروں وزراعلیٰ نے متفقہ طور پر پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری دے دی جبکہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح کے ادارے ’قومی واٹر کونسل‘ کے ذریعے پالیسی پر عمل درآمد اور نگرانی کی جائے گی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدار مشترکہ مفادات کونسل کا 37 واں اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی) پرویز خٹک،، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، وفاقی وزرا اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے مشترکہ مفادات کونسل کو قومی آبی پالیسی کے مسودے کے بارے میں آگاہ کیاانھوں نے کہا کہ یہ پالیسی تمام بڑے فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور ایک قومی سطح کا مشاورتی سیمینار بھی اتفاق رائے وضع کرنے کے لیے منعقد کیا گیا اور مشترکہ مفادات کونسل کے 36 ویں اجلاس میں پیش کردہ تجاویز کو بھی پالیسی میں شامل کیا گیاسرتاج عزیز نے آبی استعمال اور ترجیحات کے تعین، آبی وسائل کی ترقی اور استعمال کے لیے مربوط منصوبہ بندی، طاس کی ماحولیاتی ہم آہنگی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کے حصے، آب پاشی اور بارش کے پانی پر منحصر زراعت، پینے کے صاف پانی اور سینی ٹیشن، پن بجلی،، صنعت، زمینی پانی،، آبی حقوق و ذمہ داریاں، پائیدار آبی ڈھانچہ، پانی سے متعلق مسائل، کوالٹی مینجمنٹ، آگاہی اور تحقیق، تحفظ کے انتظامات، قانونی فریم ورک اور آبی شعبے کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے سمیت قومی آبی پالیسی کے خدوخال کے بارے میں وضاحت کی مشترکہ مفادات کونسل کو بتایا گیا کہ ’قومی واٹر کونسل‘ کے نام سے قومی سطح کے ادارہ کے ذریعے قومی آبی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے ، وفاقی وزرا برائے آبی وسائل، خزانہ، بجلی،، منصوبہ بندی و ترقی اور چاروں صبوں کے وزرا اعلیٰ بھی اس کے اراکین ہوں گے قومی آبی کونسل قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور وفاقی وزیر آبی وسائل کی سربراہی میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں کے ساتھ عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرے گی مشترکہ مفادات کونسل نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور وزارت آبی وسائل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کی پہلی قومی آبی پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری دے دی کے پی حکومت نے خالص ہائیڈل منافع جات کے تخمینہ کیلئے قاضی کمیٹی طریقہ کار پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ مفادات کونسل نے وزارت بین الصوبائی رابطہ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور وزارت آبی وسائل کو صوبوں کے ساتھ مشاورت سے کلیمز کو ہم آہنگ کرنے اور مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں فیصلے کے لیے اس معاملے کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی بعد ازاں ایک سادہ تقریب میں وزیراعظم نے چاروں وزرا اعلیٰ کے ہمراہ پاکستان واٹر چارٹر پر دستخط کئے جس میں قومی آبی پالیسی سے وابستگی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

عباس شاہد