دانیال عزیز توہین عدالت کیس، توہین عدالت نہیں کی ،ساری زندگی عدلیہ کی آزادی کے لیے صرف کر دی،عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنے کے لیے قانون کا پرچار کیا ،وفاقی وزیر نجکاری،وکلا آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کریں،سپریم کورٹ کی ہدایت

منگل اپریل 23:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ میں وکلاء کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 3 مئی تک ملتوی کر دی ہے ، منگل کوجسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میںجسٹس مشیرعالم اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر دانیال عزیز کے وکیل علی رضا نے نجی ٹی وی چینل کے ایگزیکٹو پرڈیوسر و مقدمہ کے گواہ کاشف جبار سے استفسار کیا کہ کیا دانیال عزیز کا ٹی وی پر چلنے والا کلپ ایڈیٹ کیا گیا تھا، جس پرگواہ نے بتایا کہ کلپ کو صرف اِن اور آئوٹ لگایا گیا، درمیان سے ایڈٹ نہیں کیا گیا ہے ، ایگزیکٹو پروڈیوسر نے تصدیق کی کہ یہ ن لیگ کے پرائیویٹ فنکشن کا کلپ تھا، کوریج کے لیے الگ سے دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا، کلپ کی فوٹیج بھی موجود ہے، سماعت کے دورا ن ایڈیشنل اٹارنی جنرل اورمقدمہ کے پراسیکیوٹر نے دانیال عزیز سے سوال کہ کیا آپ کے 19 دسمبر کو نجی ٹی وی چینل پر دئیے گئے بیان سے توہین عدالت ہوئی ہے تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے توہین عدالت نہیں کی ،میںنے اپنی ساری زندگی عدلیہ کی آزادی کے لیے صرف کی ہے اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنے کے لیے قانون کا پرچار کیا۔

(جاری ہے)

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا آپ کچھ اور بھی کہنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کہنے کو تو بہت کچھ ہے،جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی آپکو بات کرنے سے نہیں روکا، اب بھی نہیں روکیں گے، آپ جوکہناچاہتے ہیں کہہ لیں،بعد ازاںعدالت نے وکلاء کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔