امریکا اور فرانس کی ایران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی تجویز

بدھ اپریل 10:50

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) امریکا اور فرانس نے ایران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی تجویز پیش کر دی ہے ۔ یہ تجویزدونوں ممالک کے صدورکے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سامنے آئی۔ اس موقع پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ نئے معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر بھی بات کی جائے گی۔

انھوں نے ایران کو خبر دار کیا ہے کہ 2015 ء کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے باوجود جوہری پروگرام شروع کرنے کی صورت میں ایران کے لیے بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔۔قبل ازیں صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ 12 مئی کو اس جوہری معاہدے کی توسیع نہیں کریں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ نیا معاہدہ مضبوط خطوط پر استوار کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ وہ ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں یمن ، شام اور تمام مشرقِ وسطیٰ پر بات ہو سکے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ 2015 ء میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھیدوسری جانب فرانسیسی صدر بھی اس سے متفق ہیں کہ خطے میں تہران کے اثرو رسوخ کو بھی نئے معاہدے میں شامل کرنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ موجودہ جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد دوبارہ جوہری پروگرام شروع کرنا ایران کے لیے اتنا آسان نہیں ہو گا۔

ایسی صورت میں ان کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے یہ مسائل اتنے بڑے ہو سکتے ہیں جن کا ایران نے اس سے پہلے سامنا نہیں کیا۔فرانسیسی صدر نے اس موقع پر کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اور جوہری معاہدے کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم استحکام چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اکٹھے ہو کر ہم ایران کے ساتھ ایک اور معاہدے کا راستہ نکال سکتے ہیں۔

فرانسیسی صدر ٹرمپ ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں۔۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ 2015 ء میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ اگر امریکا جوہری معاہدے سے نکلتا ہے تو اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ ایران بھی اس معاہدے کو ترک کر دے گا۔