ہماری جماعت کے ہاتھ بھی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں،

معروف کانگریس رہنما اور سابق بھارتی وزیر سلمان خورشید کا اعتراف

بدھ اپریل 13:04

آگرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں اور ان کے اس بیان میں بھارت بھر میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم نے بھارت میں کئی عشروں پر پھیلے کانگرس کے دور اقتدار میں مسلم کش فسادات بارے سوال کیا تو سلمان خورشید نے جواب میں اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی کے ہاتھ بھی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں اور پارٹی رہنماء ہونے کی وجہ سے وہ اس کے ذمہ داروں میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں غلطیوں کے ارتکاب کے باوجود ہمیں اقلیتوں کے حقوق کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال کرنے والے طالب علم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا سوال سمجھ رہا ہوں۔ آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر اب کوئی آپ پر حملہ کرتا ہے تو کیا کانگریس کو آپ کے تحفظ کے لئے آگے نہیں آنا چاہیے۔۔میرا جواب یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ بھی خون سے رنگے ہیں اور یہ اعتراف میں اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ کسی کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگیں ۔

سلمان خورشید نے مزید کہا کہ کسی بھی کمیونٹی پر حملہ کرنے والا اپنے ہاتھ خون سے رنگتا ہے ۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اس طرز عمل کو ترک کر دینا چاہیے۔بعد ازاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں سوال کرنے والے سابق طالبعلم امیر منٹوئی نے کہا کہ اس کا مقصد کانگرسی رہنما سے یہ پوچھنا تھا کہ جب ان کی جماعت کے دور حکومت میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات سمیت کئی بار مسلم کش فسادات ہوئے تو اب مسلمان کانگرس پر کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں۔؂

متعلقہ عنوان :