ملیریا ڈینگی سے زیادہ خطرناک ہے ،

بچائو کیلئے مچھر وںکی افزائش کو روکنا ہو گا‘مقررین تلسی ،سیاہ مرچ ، کرنجوا، ست گلو اورنیم ملیریا بخار کیلئے مفید ہیں ‘ملیریا سے بچائو کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

بدھ اپریل 13:41

ملیریا ڈینگی سے زیادہ خطرناک ہے ،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان طبی کانفرنس لاہور ڈویژن کے زیر اہتمام ملیر یا سے بچائو کے عالمی دن کے حوالے سے مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس میں ملیریا بخار ، اسباب ، علامت اور علاج کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا ۔ اس تقریب کی صدارت پروفیسروید جمیل خا ن نے کی جبکہ صدر پاکستان طبی کانفرنس لاہور ڈویژن حکیم محمد جاوید رسول نے بطور مہمان ِ خصوصی شرکت کی۔

دیگر احباب میں پروفیسرحکیم محمد احمد سلیمی ،پروفیسر حکیم سید عمران فیاض ،حکیم محمد افضل میو ، حکیم احمد حسن نوری ، حکیم محمد عیسی نذیری ، حکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل، حکیم مدثر سواتی، حکیم محمد ابو بکر اور حکیم وحید الحسن چشتی شامل تھے۔مقررین نے کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے ڈینگی کی وباء نے سب کو اتنا پریشان کیے رکھا ہے کہ دوسرے بہت سارے امراض جو اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے ان کے بارے میں شعور و آگہی کو بالکل پس پشت ڈال دیا گیا۔

(جاری ہے)

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا وسیع علاقہ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور صوبہ سندھ ملیریاکی وباء سے شدید متاثر ہوتے ہیں،،ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر والے علاقے یعنی فاٹا میں بھی ملیریا کے پھیلنے کے خطرات موجودہیں۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود ملیریا سے نسبتا کم متاثر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا ڈینگی سے زیادہ خطرناک ہے ،بچائو کیلئے مچھر وںکی افزائش کو روکنا ہو گا۔جبکہ تلسی ،سیاہ مرچ ، کرنجوا، ست گلو اورنیم ملیریا بخار کیلئے مفید ہیں ۔