عظیم پاکستانی اداکارہ انتقال کر گئیں

اجوکا تھیٹر کی بانی ، آرٹ ڈائریکٹر مدیحہ گوہر گزشتہ 3برس سے معدے کے کینسر میں مبتلا تھیں

بدھ اپریل 13:41

عظیم پاکستانی اداکارہ انتقال کر گئیں
کراچی/لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اجوکا تھیٹر کی بانی اور آرٹ ڈائریکٹر مدیحہ گوہر کینسر کے موزی مرض سے نبرد آزما نہیں ہو سکیں اور 62 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔مدیحہ گوہر گزشتہ 3برس سے معدے کے کینسر میں مبتلا تھیں، ان کی نماز جنازہ آج ( جمعرات ) شام ان کی رہائش گاہ 24 سرور روڈ کینٹ میں ادا کی جائے گی۔سوگوار میں ان کے شوہر، ڈائریکٹر شاہد ندیم، اور دو بچے سارنگ اور نروان شامل ہیں۔

مدیحہ گوہر 1956ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے علم فنون اور انگریزی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور پھر لندن یونیورسٹی سے تھیٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔1983ء میں پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے اپنے خاوند ڈرامہ نویس اور ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم کے ساتھ لاہور میں اجوکا تھیٹر کی بنیاد رکھی، جہاں انہوں نے خود بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور متعدد اسٹیج ڈراموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔

(جاری ہے)

مدیحہ گوہر فنکارہ، ڈائریکٹر اور سماجی رکن کے اعتبار سے مشہور تھیں جنہوں نے تھیٹر کے ذریعے سماجی تبدیلی کا بیڑا اٹھایا ۔اجوکا تھیٹر نے بلعموم انسانی حقوق اور بلخصوص خواتین کے سماجی مسائل مثلا خواتین میں تعلیم کی شرح، غیرت کے نام پر قتل،، بچیوں کے حقوق، صحت اور خاندانی منصوبہ بندی پر آواز اٹھائی۔اپنی مقبولیت اور فعالیت کے پیش نظر اجوکا تھیٹر نے بھارت،، بنگلہ دیش،، نیپال، سری لنکا،، عمان،، ایران،، مصر،، امریکہ ، برطانیہ اور ناروے میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مدیحہ گوہر پاکستان اور بھارت کے مابین امن کی خواہاں تھیں اور اس ضمن میں غیر معمولی طور پر فعال تھیں۔مدیحہ گوہر پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں اجوکا تھیٹر کے لیے گراں قدر خدمات پر پرنس کلاز ایوارڈ سے نوازا گیا۔مرحومہ کو تھیٹر جاری رکھنے کے دوران سیاسی اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سخت دبائو کا سامنا بھی رہا لیکن وہ سماج میں مثبت تبدیلی کے لیے کوشش کرتی رہیں۔

مدیحہ گوہر کے اسٹیج ڈرامے سماجی اور معاشرتی حالات و واقعات پر مبنی ہوتے تھے۔انہوں نے پاکستان سمیت بھارت،، بنگلہ دیش،، نیپال سری لنکا اور برطانیہ کے بھی کئی تھیٹرز میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔فنکار ہونے کے علاوہ مدیحہ گوہر بطور سماجی کارکن بھی کام کرتی تھیں، خصوصا حقوق نسواں کے لیے ان کی آواز ہمیشہ آواز بلند نظر آتی تھی۔2006ء میں انہیں نیدرلینڈ میں ’’پرنس کلوڈ ایوارڈ‘‘سے نوازا گیا اور 2007ء میں انہوں نے ’’انٹرنیشنل تھیٹر پاستا ایوارڈ‘‘اپنے نام کیا۔

2007ء میں ان کے تحریر اور ڈائریکٹ کردہ تھیٹر ڈرامے برقع وگینزا نے مقبولیت حاصل کی، جس کے ذریعے دکھایا گیا کہ لوگوں کے چہرے وہ نہیں ہوتے جیسے وہ نظر آتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے برقعے کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا کہ معاشرے میں عدم برداشت، صنفی تعصب اور کس حد تک منافقت ہے، تاہم بعدازاں اس اسٹیج ڈرامے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔