سارک چیمبر آف کامرس کے آٹھ ممبر ممالک کے نائب صدور کی تین روزہ کانفرنس پرسوں اسلام آباد میں شروع ہوگی

جنوبی ایشیا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وژن 2030 کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائیگی‘ نائب صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک

بدھ اپریل 13:41

سارک چیمبر آف کامرس کے آٹھ ممبر ممالک کے نائب صدور کی تین روزہ کانفرنس ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) سارک چیمبر آف کامرس کے آٹھ ممبر ممالک کے سینئر نائب صدر اور نائب صدور کی تین روزہ کانفرنس جمعہ 27 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوگی جس میں جنوبی ایشیا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وژن 2030 کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ بدھ کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سارک چیمبر کے نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ یہاجلاس اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ خطے میں غربت میں کمی، معیار زندگی میں بہتری اور عوامی روابط میں فروغ کیلئے معاشی ایجنڈا سیٹ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام ممبر ممالک علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلئے حقیقی معنوں میں کام کریں گے اور سارک چیمبر کے صدر روآن ایدر سنگھے رکن ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانیاور سارک پروگراموں اور سرگرمیوں کے بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے جو پورے خطے کیلئے سودمند ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سارک ممالک، پاکستان،، بھارت،، بنگلہ دیش،، سری لنکا،، بھوٹان، نیپال، مالدیپ اور افغانستان کے مابین تجارت کا فروغ اور آزادانہ تجارت سے متعلق معاملات ایجنڈے میں سر فہرست ہو نگے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز کے طریق کار اور دستاویزات میں ہم آہنگی اور سرحدوں کے آر پار سامان کی نقل و حرکت میں سہولیات کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔

افتخار ملک نے کہا کہ علاقے میں بہتر کنکٹویٹی کیلئے زمینی، سمندری اور فضائی روٹ کھولنے اور موٹر گاڑیوں اور ریلوے سے متعلق معاہدے بھی اشد ضروری ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سارک کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کیلئے سارک چیمبر کے موجودہ صدر اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے عوام کی فلاح و بہبود، اقتصادی و سماجی ترقی اور ثقافتی تعاون کو بہتر بنانے کے لئے سارک کے بینر تلے بھر پور کوششوں کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی اور مشکل تجارتی اور سرمایہ کاری پالیسیوں کی وجہ سے سارک کو دنیا میں سب سے کم مربوط خطہ سمجھا جاتا ہے اس لئیخطہ کے اندر اور باہر نئی سڑکوں پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سارک میں تجارت اور سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے مگر دنیا کی 21 فی صد آبادی کی آبادی کے حامل اس خطہ کا عالمی تجارت میں حصہ صرف 5 فیصد ہے۔نانہوں نے کہا کہ سارک چیمبر نے ہر ممبر ریاست میں 20 منصوبوں کی نشاندہی کی ہے اور 12 مشترکہ منصوبوں پر دستخط کئے گئے ہیں اور متعدد پر مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سارک انڈسٹریل پارکس کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں حکومت نے فیصل آباد میں 150 ایکڑ زمین فراہم کی ہے اور بنگلہ دیش،، بھوٹان اور سری لنکا کی حکومتیں بھی صنعتی پارکوں کی ترقی کے لئے زمین فراہم کرنے پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارک چیمبر نے توانائی، روابط اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں متعدد منصوبوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اہداف اور ایک دوسرے پر انحصار سارک کے تصور کی اصل روح تھی اور علاقائی تعاون کو ترقی دے کر ہی آئندہ نسلوں کو معاشی خوشحالی اور سماجی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔