ایس ایس پی تشدد کیس:

عمران خان طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے، بریت کا فیصلہ مؤخر عمران خان کی طلبی کے باوجود عدم پیشی پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کا برہمی کا اظہار اگر عمران خان 4 مئی کو پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے ،ْ عدالت علیم خان اور شوکت یوسفزئی کی عبوری ضمانت میں توسیع

بدھ اپریل 14:28

ایس ایس پی تشدد کیس:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایس ایس پی تشدد کیس میں طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے فیصلہ 4 مئی تک مؤخر کردیا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کے کیس میں عمران خان کی بریت کی درخواست پر فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو بدھ کو سنایا جانا تھا۔

فاضل جج نے سماعت کی تو عمران خان کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ ملزم کی موجودگی میں فیصلہ سنایا جائے گا۔عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو طلب کیا جس پر ان کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخوست جمع کرائی گئی۔۔عمران خان کی طلبی کے باوجود عدم پیشی پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ 4 مئی تک مؤخر کردیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر عمران خان 4 مئی کو پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ ارجمند نے بطور ڈیوٹی جج پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان اور شوکت یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے علیم خان اور شوکت یوسفزئی کی عبوری ضمانت میں 24 مئی تک توسیع کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 2014 میں حکومت مخالف دھرنے کے دوران عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ایس ایس پی تشدد، پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ اور اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔