خام تیل کی سپلائی میں کمی،

طلب میں اضافے کے باعث نرخ اوسطا 65 ڈالر فی بیرل رہنے، کاشت میں کمی کے باعث زرعی اجناس کے نرخوں میں 2 فیصد اضافے کا امکان، سال کے دوران خام تیل، قدرتی گیس اور کوئلے سمیت توانائی کی مصنوعات کے نرخوں میں 20 فیصد تک اضافے کی توقع ہے،عالمی بینک کی جانب سے اپریل کی کموڈیٹی مارکیٹ کے حوالے سے جاری جائزہ رپورٹ

بدھ اپریل 14:38

خام تیل کی سپلائی میں کمی،
واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) عالمی بینک نے کہا ہے کہ رواں سال کے دوران خام تیل کی سپلائی میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث اس کے نرخ اوسطا 65 ڈالر فی بیرل رہنے جبکہ کاشت میں کمی کے باعث زرعی اجناس کے نرخوں میں 2 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ بینک کی جانب سے اپریل کی کموڈیٹی مارکیٹ کے حوالے سے جاری جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 ء کے دوران خام تیل پیداکرنے والے ملکوں کی جانب سے سپلائی میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث اس کے اوسط نرخ 65 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے جبکہ 2017 ء کے دوران خام تیل کے اوسط نرخ 53 ڈالر فی بیرل رہے تھے۔

بینک کے شعبہ کموڈیٹی آئوٹ لک کے سینئر ماہر معاشیات جان بفرکا کہنا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی جانب سے پیداوار میں کمی اور مخصوص سپلائی کے باعث خام تیل کے نرخ 2016 ء کے آغاز کے مقابلے میں اس وقت دو گنا سے زیادہ ہوچکے ہیں۔

(جاری ہے)

اوپیک اور نان اوپیک ملکوں کی جانب سے باہمی معاہدے کے تحت پیداوار میں کمی کے باعث مارکیٹ مندی کا شکار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خام تیل کے نرخوں میں آئندہ دنوں کے دوران اپریل 2018 ء کی نسبت کمی کی توقع ہے، قیمتوں میں استحکام کے لیے اوپیک اور نان اوپیک ملکوں کو پیداوار میں کمی جاری رکھنی چاہیے۔بینک نے سال کے دوران خام تیل،، قدرتی گیس اور کوئلے سمیت توانائی کی مصنوعات کے نرخوں میں 20 فیصد تک اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔