حقیقی معاشی ترقی کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے،

ویلیو ایڈٹ پراڈکٹس کیلئے جدید تحقیق و ترقی کی اہمیت بہت زیادہ ہے،حکومت نے بائیو ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں،ڈائریکٹر جنرل فرانزک سائنس ایجنسی پنجاب ڈاکٹر محمد اشرف ساجد و دیگر کا بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

بدھ اپریل 14:41

لاہور۔25 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ڈائریکٹر جنرل فرانزک سائنس ایجنسی پنجاب ڈاکٹر محمد اشرف ساجد نے کہا ہے کہ حقیقی معاشی ترقی کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے،ویلیو ایڈٹ پراڈکٹس کے لیے جدید تحقیق اور ترقی کی اہمیت بہت زیادہ ہے،حکومت نے بائیو ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔وہ بدھ کے روز پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)میں "انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن ان بائیو ٹیکنالوجی " کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد عالم، پی سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل قرة العین سید‘ملائیشیا یونیورسٹی کے ڈین ناطمد ساری سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر محمد اشرف طاہر نے کہا کہ جدید دور میں کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب تک وہ خود کو جدید تحقیق سے ہم آہنگ نہیں کرتا۔

انہوںنے کہا کہ زرعی ترقی اور فی ایکٹر پیداوار کے لیے بھی بائیو ٹیکنالوجی کی بہت اہمیت ہے اور اس سے فائدہ اٹھا کر فی ایکٹر پیداوا میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روز مرہ ضروریات کے لیے استعمال ہونے والی اشیا جن میں صاف پانی ،ویجی ٹیبل آئل اور خوراک سے متعلق دیگر اشیاء شامل ہیں کے لیے بھی پی سی ایس آئی آر نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ملاوٹ سے پاک فوڈ اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں پی سی ایس آئی آر لیبارٹری کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

اس موقع پر پی سی آیس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ قومی ترقی کے لیے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے جس کیلئے بائیو ٹیکنالوجی لازم و ملزوم ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک بائیو ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی نہیں ہوتی صنعتی ترقی کے حقیقی ثمرات سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ پی سی ایس آئی آر نے پبلک ‘ پرائیویٹ سیکٹر اور لوکل انڈسٹری کے لیے ٹیکنیکل اور ماہر افرادی قوت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کو تربیت کی فراہمی بھی اس میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔کانفرنس سے ملائشیا یونیورسٹی کے ڈین ناطمد ساری نے کہا کہ مختلف ملکوں کے مابین بائیو ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے جو مسائل درپیش ہیں ان کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تاکہ ان کو حل کیا جاسکے اور اس شعبہ میں مز ید تحقیق کے ذریعے ترقی کی جاسکے۔

قبل ازیں پی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قرة العین سید نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی 21ویں صدی کی اہم ٹیکنالوجی ہے ‘کانفرنس کا مقصد اس شعبہ میں نئی ریسرچ اور اسٹیک ہولڈرزکو آگاہی فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس کا مقصد ریسرچ بیسڈ کلچر کو فروغ دینا ہے۔