حکومت کی مختلف شہروں میں چاولوں کی کاشت کے جدید منصوبے فوری طور پر شروع کرنے کی منظوری

بدھ اپریل 14:42

فیصل آباد۔25 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) حکومت پنجاب نے صوبہ میں گندم ، کماد ، کپاس ، چاول ، مکئی اور دیگر فصلات کی پیداوار میں فی ایکڑ زیادہ اضافہ کیلئے بھر پور اقدامات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اس سلسلہ میں کروڑوں روپے کی لاگت سے محکمہ زراعت اور زرعی تحقیقاتی اداروں کے زیر اہتمام خصوصی تحقیقی منصوبوں کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے تاکہ سبز زرعی انقلاب لا کر نہ صرف ملکی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے بلکہ اضافی زرعی پیداوار بیرون ملک برآمد کر کے اس سے بھاری و قیمتی زر مبادلہ کا حصول بھی ممکن ہو سکے نیز اس ضمن میں مختلف شہروں میں چاولوں کی کاشت کے جدید منصوبے بھی فوری طور پر شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے دیگر فصلات کی طرح نہ صرف چاول کی فی ایکٹر پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوگا بلکہ چاول کی کوالٹی بھی بہتر ہوگی۔

(جاری ہے)

سرکاری ذرائع اور ماہرین زراعت نے بتایا کہ ابتدائی طور پر چاولوں کیلئے چند اضلاع یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے جبکہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہونے پر اسے صوبے کے چاول پیدا کرنے والے دیگر علاقوں میں پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ملک بھر میں چاول کی پیداوار کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا ہے اوراس کا پاکستان میں چاول کی پیداوار میں58فیصد سے زائد حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں چاول کی فی ایکٹر پیداوار اوسطاً تین من ہے جو امریکہ،، چین اور مصر کی پیداوار کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی کم پیداوارکی سب سے بڑی وجہ کھیتوں میں پودوں کی تعدادکاکم ہونا ہے جو دھان کی پنیری لگانے کیلئے مزدوروں کی کمیابی اور لاگت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مکینیکل ٹرانسپلانٹر کے ذریعے ایک کھیت میں چاول کے 80 ہزارسے ایک لاکھ 20 ہزار تک پودے بآسانی لگائے جا سکتے ہیں جبکہ ماہرین نے دھان کی پنیر ی کی منتقلی میں فی ایکٹرپودوں کی تعداد 80ہزار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔انہوںنے بتایا کہ دھان کی کاشت کیلئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کی کاشت ہی یقینی بنائی جائے ۔