ملیریا ایسا مرض ہے جس کے صحت کے علاوہ شدید سماجی و اقتصادی اثرات ہیں‘پروفیسر ڈاکٹر عامر اکرام

وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت پاکستان نے شراکت داروں کے تعاون سے ملیریا کی روک تھام اور خاتمے کا تہیہ کیا ہوا ہے

بدھ اپریل 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ملیریا کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عامر اکرام نے کہا کہ ملیریا کا عالمی دن ہر سال 25اپریل کو ملیریا کے خاتمے کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول پاکستان 2008؁ سے قومی اور صوبائی سطح پر ملیریا کا عالمی دن منا رہا ہے ۔ یہ دن ہمیں ملیریا کے خاتمے کے حوالے سے سامنے آنے والے چیلنجز کی یاددہانی کراتا ہے اور ساتھ ہی مرض سے نمٹنے کے سلسلے میں حاصل کردہ کامیابیوں پر اظہارِ تشکر کا بھی موقع فراہم کرتاہے۔

حُکام اس مقصد کے لئے سرگرم کارندوں کی کاوشوں کو تسلیم کرتے اورسراہتے ہیں تاکہ کارندوں کے ولولے کو جِلا ملے۔ اس سال عالمی یوم ملیریا کا مرکزی خیال ہی: ’ملیریا کو شکست دینے کے لئے تیار‘۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملیریا ایسا مرض ہے جس کے صحت کے علاوہ شدید سماجی و اقتصادی اثرات ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت پاکستان نے شراکت داروں کے تعاون سے ملیریا کی روک تھام اور خاتمے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔

مرض سے بچائو، تشخیص اور علاج کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتیں خطیر وسائل خرچ کررہی ہیں۔ گلوبل فنڈ جیسے شراکت دار بھی پاکستان میں ملیریا کی روک تھام اور خاتمے کے لئے سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔ پاکستان ملیریا کے روک تھام اور خاتمے کے حوالے سے اہم پیش رفت کر تے ہوئے عالمی اہداف کو پورا کر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال سے ملیریا کی خطرناک ترین قسم ’فالسی پیریم ملیریا‘ کے وقوع پذیر ہونے کے واقعات میں کافی کمی آئی ہے۔

یہ شراکت دار ایجنسیوں، مخیر اداروں اور نجی شعبے کے تعاون سے ممکن ہوا۔ گلوبل فنڈ نے گزشتہ پانچ برسوں میں سو ملین امریکی ڈالرز کی معاونت فراہم کی۔ گلوبل فنڈ گرانٹ فی الوقت قبائلی علاقہ جات، خبیر پختونخواہ ، سندھ اور پنجاب کے سب سے زیادہ متاثرہ چھیاسٹھ اضلاع اور ایجنسیوں میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ اسی معاونت کی بدولت چار ہزار سے زائد تشخیصی اور معالجہ مراکز قائم کئے جاچکے ہیں تاکہ ہر مشکوک کیس کا ٹیسٹ کرایا جائے اور تصدیق شدہ کیس کا معیاری علاج ممکن بنایا جائے۔

چودہ ملین سے زیادہ بستری مچھردانیاں تقسیم کی جاچکی ہیں۔ 2018میںسے سے زیادہ متاثرہ12 اضلاع میں اضافی تیس لاکھ بستری مچھردانیاں تقسیم کی جائیں گی، جبکہ 2019میں پاکستان کے سترہ اضلاع میں 2.7ملین بستری مچھر دانیاں تقسیم کی جائیں گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی ڈائریکٹر ملیریا نے کہا ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول نے پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals)اور عالمی ادارئہ صحت کے ’عالمی تکنیکی لائحہ عمل‘سے ہم آہنگ پالیسیاںاور رہنما اصول ترتیت دیے ہوئے ہیں۔

مئوثر مداخلتی اقدامات جیسے بروقت تشخیصی ٹیسٹس ، Artemensinin based Combination Therapiesاور طویل المدت بستری مچھردانیوں کی فراہمی جسے اقدامات کے سامنے آنے اور ان کی وسعت کے سبب مرض کی تشخیص، بچائو اور علاج میں انقلاب بھرپا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان وبائی امراض کی روک تھام کے تمام پروگراموں کو ایک ہی چھتری تلے لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جاسکیں۔

ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی نے کہا کہ ملیریا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کو مضبوط سیاسی عزم، معاشی وسائل کی دستیابی اور جدید آلات کے ذریعے نگرانی جسے اقدامات کی بدولت مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ملیریا کے خاتمے کے سلسلے میں حاصل کردہ کامیابیوں کا ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے ۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ملیریا کی روک تھام کے اقدامات پہلے کی طرح جاری و ساری ہیں اور مرض کا خاتمہ ملکی ترجیحی بیماری کی فہرست میں موجود ہے۔ اس ضمن میں اعلیٰ سطحی قومی و صوبائی ’ملیریا کنٹرول و خاتمہ ٹاسک فورس‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی وسائل کو مزید مئوثر انداز میں بروئے کار لایا جاسکے اور ’2030تک ملیریا سے پاک پاکستان‘ کی طرف پیش رفت کی جاسکے۔