تاجرالائنس نے سندھ گیمز میں ہونے والی کروڑوں کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا

لاکھوں روپے کے میسکوٹ،سات ہزار پانی کی بوتلیں ڈھائی ہزار جوس کے ڈبے تک ہم سے لیئے گئے ،ایاز موتی والا

بدھ اپریل 15:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین و سندھ گیمز مارکیٹنگ کمیٹی کے سینئر وائس چیئرمین ایاز میمن موتی والا نے کہاہے کہ سندھ گیمزمیں کرپشن کا بھانڈا پھوڑنے پر جان کو خطرہ ہے، مجھے کچھ ہوا تو ذمہ داری سیکرٹری اسپورٹس سمیت سندھ حکومت پر عائد ہوگی، سندھ گیمز میں سیکرٹری اسپورٹس نیاز علی عباسی اور اس کے حواریوں نے دل کھول کر کرپشن کی ،اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ قوم کو بتائے کہ انہوںنے 4کروڑ 61لاکھ روپے کی رقم کہا خرچ کی ، سندھ گیمز میں کروڑوں روپے خرد برد کرنے کرنے کے لیے فرنٹ مین رکھ کر کرپشن کی گئی تاکہ ان کا اپنا دامن صاف رہے مگر مال انہیں کی جیبوں میں جاتا رہے ،،چیف جسٹس آف پاکستان نوٹس لے ہم ثابت کرینگے کہ کرپشن کس کس انداز میں کی گئی ، ان خیالات کااظہار انہوںنے کراچی تاجر الائنس کے ہنگامی اجلاس میں کیا،انہوںنے کہاکہ نیب بھی اس سلسلے میں انکوائری کا حکم دیں تاکہ ان ریاستی دہشت گردوں کا ملک سے صفایا ہوسکے ،ہم سے لاکھوں کے اخراجات کرواکر کراچی کے تاجروں کی خدمات کو نظر انداز کیاگیا، ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ وزیر کھیل محمد بخش خان مہر کرپشن کے اس سلسلے کے ثبوت ہم نے نہیں بلکہ آپ نے پیش کرنے ہیں انہوںنے کہاکہ سندھ گیمز کے لیے مختص کروڑوں کے اخراجات کو مل بانٹ کر تقسیم کیاگیا ،جبکہ منسٹر اسپورٹس ثابت کریں کہ وہ اس کرپشن میں شامل نہیں ہے ورنہ ہم تمام ثبوتوں کے ساتھ عدالت اور میڈیا میں جائیں گے، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے پاس دینے کو پانی تک نہیں تھا بدلے میں 7000منرل واٹر پانی کی بوتلیں اور 2500جوس کے ڈبے کراچی تاجر الائنس سے پیسے لیکر دلوائے گئے ،جبکہ لاکھوں مالیت کے 23میسکوٹ کراچی تاجرالائنس کے پیسوں سے بنوائے گئے علاوہ ازیں سندھ گیمز میں چلنے ولا لوگو اور تھیم سونگ تک ہم نے ہی دیا ہے اس میں اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ نے سوائے بیان بازیوں کے کوئی کردارادا نہ کیا ،لہذا سندھ گیمز میں مختص ہونے والی کروڑوں کی خالص رقم کا نمک برابرحصہ لگا کر ساری رقم کرپشن کی نظر ہوگئی ہے ، انہوںنے کہاکہ سیکرٹری اسپورٹس نیاز علی عباسی نے سندھ گیمز کے انعقاد سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ سندھ گیمز کے اختتام پر کراچی تاجر الائنس کو بتائیں گے کہ انہوںنے کن کن معاملات پر 4کروڑ 61لاکھ روپے کہاں کہاں خرچ کیے ہیں۔

وزیرکھیل سمجھتے ہیں کہ سندھ گیمز میں ہونے والی کرپشن میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے تو وہ سیکرٹری اسپورٹس نیاز علی عباسی سے وضاحت طلب کریںتاکہ ثابت ہو کہ وہ اس کرپشن میں شامل نہیں ہیں۔