صنعتی خام مال ہائیڈروجن پرآکسائیڈمارکیٹ سے غائب

ایک کمپنی کے پیداوارروکنے سے بحران پیداہوا،حکومت ڈیوٹی فری درآمدکرنے دے،ٹی ایم اے

بدھ اپریل 15:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) مقامی مارکیٹ سے ٹیکسٹائل ادویہ پیکجنگ ودیگر شعبوں کی صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال ہائیڈروجن پرآکسائیڈ غائب کردی گئی ہے اور ضرورت مندوں سے 315 فیصد زائد قیمت کے عوض ہائیڈروجن پر آکسائیڈ فروخت کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں دیگر صنعتی شعبوں کے ساتھ برآمدی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار ہوگئی ہیں۔

اس ضمن میںٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامرحسن لاری نے بتایا کہ پاکستان میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی مجموعی پیداوار 80 ہزار میٹرک ٹن سالانہ ہے لیکن ایک کمپنی کی جانب سے اپنی پیداواری سرگرمیاں روکنے سے مقامی مارکیٹ میں بحران پیدا ہوگیا ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 6 ماہ قبل 52 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والی ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اب 215 روپے میں بھی دستیاب نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے مجاز ڈسٹری بیوٹرز کی چاندی ہوگئی ہے جو اپنے صنعتی کسٹمرز سے منہ مانگے داموں پر پیشگی بکنگ کرنے کے کچھ وقفے بعد سپلائی کررہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صرف ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی سالانہ کھپت 1 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ یہ کیمیکل اٹامک انرجی ٹیٹراپیک پیکجنگ میٹریل اور ادویہ سازی میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، اسطرح ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ ٹن سالانہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی کھپت ہے، نیشنل ٹیرف کمیشن کی جانب سے 69 مخصوص ممالک سے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی درآمد پر5 فیصد اور دیگر ممالک سے درآمد کی صورت میں 12.4فیصد کانٹرویلنگ ڈیوٹی عائد ہے۔

اس کے علاوہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی درآمدات پر 11 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 1 فیصد ایڈیشنل ڈیوٹی اور 1 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے، ان بھاری بھرکم ڈیوٹی ٹیکسوں کی وجہ سے برآمدی شعبہ اسے درآمد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن مقامی مارکیٹ سے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کا غائب ہوجانا یا ہوشربا قیمتوں پر دستیابی صنعتی شعبے کے لیے لمحہ فکربن گیا ہے۔

ٹی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی درآمدات کو اس وقت تک ڈیوٹی فری کرنے کا اعلان کرے جب تک اس کی رسد معمول پر نہ آجائے۔ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پرہائیڈروجن پر آکسائیڈتیار کرنے والی تھائی لینڈ کی کمپنی نے بھی شٹ ڈان کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے بڑے برآمدکنندگان نے اپنے برآمدی آرڈرزکی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک سے براہ راست مہنگے داموں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کے درآمدی معاہدوں کا آغاز کردیا ہے۔