پاک روس اقتصادی تعاون میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے،محمد زبیر

تجارتی وفود کے تبادلوں سے باہمی تجارت بڑھائی جاسکتی ہے، پاک روس سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب

بدھ اپریل 15:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستان اورروس کے مابین 70سال کے دوران تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے لیکن دونوں ممالک کے درمیان دوستی وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مستحکم ہورہی ہے جو کہ باہمی ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اور روس کے مابین سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ اور روس کے قومی دن کی مناسبت سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں روس کے سینٹ پیٹرزبرگ کے نائب گورنر سرگئی مواشین ، روس کے قونصل جنرل ،دیگر ممالک کے سفارت کاروں ، اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج خان درانی اور عمائدین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان اور روس کے مابین اقتصادی تعاون اور باہمی تجارت کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے اور تجارتی وفود کے تبادلوں سے اس میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان روس سے اقتصادی تعاون بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پورے خطے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے پاکستان میں تعمیر و ترقی کے نئے دور آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا شنگھائی تعاون تنظیم میں دونوں ممالک کی موجودگی مزید اقتصادی تعاون کے لیے پلیٹ فارم کا کام انجام دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ون بیلٹ ون روڈ میں روس کی شمولیت سے منصوبے کی افادیت میں اضافہ ہو گا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری اسے سرمایہ کاری کے لیے آئیڈیل شہر بناتی ہے کیونکہ یہاں وافر مقدار میں ہنر مند افراد ی قوت موجود ہے جوکہ صنعتی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا امن اوامان کے قیام کے بعد شہر کے انفراسٹرکچرپربھرپور توجہ د ی جارہی ہے خصوصا صنعتی علاقوں میں اس ضمن میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے لیے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔

سینٹ پیٹرزبرگ کے وائس گورنر سرگئی مواشین نے اس موقع پر کہا کہ پاک روس تجارتی تعاون میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میں تجارتی وفود کے تبادلوں سے بہت مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ روس کی کاروباری برادری کا وفد بھی آیا ہے جو یہاں سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ لے گا۔