لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت برہم ،محکمہ داخلہ، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس

بدھ اپریل 16:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری ملازم سمیت 70 لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ داخلہ، ڈی جی رینجرز،، آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ بدھ کودو رکنی بینچ کے روبرو سرکاری ملازم سمیت 70 لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔۔لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت نے سیکیورٹی اداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔

درخواست گزار خاتون نے موقف اختیار کیا کہ میرے شوہر رومی احمد کو گھر سے اٹھایا گیا۔ 4 ماہ گزر گئے ہے مگر میرے شوہر کا کچھ پتا نہیں چلا۔ لاپتہ فرد کی اہلیہ کمرہ عدالت میں رو پڑیں۔ ایک لاپتہ شخص جمیل کی والدہ نے موقف اپنایا میرا بیٹا ایک سال سے لاپتہ ہے جس کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا۔

(جاری ہے)

پولیس والے بیٹے کی بازیابی کے لیئے ایک لاکھ مانگ رہے ہیں۔

ہم غریب لوگ ہے کہاں سے دینگے۔ لعل خان کی اہلیہ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا میرا شوہر کے پی کے سے کراچی آرہا تھا تو اسے مھنگوپیر سے اٹھا لیا گیا۔ ایک سال گزر گیا ہے ابھی تک کچھ نہیں ہوا پولیس لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی کام نہں کر رہے۔ عدالت کے روبرو پولیس افسر نے بیان دیا کہ ڈی ایس پی راجا طارق بیمار ہے اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے وہ بیمار نہیں خود عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہ رہا۔ ڈی ایس پی راجا طارق عبدالغفور سمیت ضلع جنوبی کے 5 پولیس آفیسر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلکل کام نہیں کرتے۔ اگر یہ 5 پولیس آفیسر چلے جائیں تو بہت ساری لوگوں کا اچھا ہوسکتا ہے۔ عدالت نے لاپتہ افراد کو جلد ہی بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے فریقین سے 17 مئی تک جواب طلب کرلیا۔