امریکہ شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے،چین کا الزام

امریکہ ایک مرتبہ پھر خود کو انسانی حقوق کا محافظ اور خود ساختہ انسانی حقوق جج ظاہر کررہا ہے امریکہ کاانسانی حقوق کا اپنا ریکارڈانحطاط کا شکار اور اور مسک صورتحال کا آئینہ دار ہے،جوابی رپورٹ

بدھ اپریل 16:30

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) چین کی مرکزی کابینہ (سٹیٹ کونسل) کے شعبہ نشرواشاعت کی طرف سے بیس اپریل کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے 2017کے لیے انسانی حقوق کے طریقوں کے بارے میں ملکی رپورٹ کے جواب میں 2017میں’’امریکہ کے انسانی حقوق کا ریکارڈ ‘‘کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے۔ شعبہ کی طرف سے 2017میں امریکہ کی طر ف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سرسری جائزہ بھی پیش کیا گیا۔

چینی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔کہ امریکہ ایک مرتبہ پھر خود کو ’’انسانی حقوق کا محافظ اور خود ساختہ ’’انسانی حقوق کا جج ظاہر کرتا ہے جبکہ اس کا انسانی حقوق کا اپنا ریکارڈ انتہائی خراب ہے۔ اور مسلسل تنزلی کا شکار ہے رپورٹ میں امریکہ پر شہریوں کے شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں مرحلہ وار نسلی امتیاز امریکی طرز جمہوریت میں زبردست خامیوں امیر اور غریب کے فرق کو وسیع کرنے امیتاز اور خواتین ،بچوں ، ذیابیطس کے افراد جیسے بعض مخصوص گروپوں پر حملوں کے علاوہ دوسرے ممالک میںانسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2017کی رات کو لاس لیگاس میں فائرنگ کے دوران قریباً60افراد ہلاک اور 800سے زیادہ زخمی ہوگئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی خواتین کو بظاہر امتیاز کے علاوہ جنسی حراسگی کے سنگین خطرات اور خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ امریکہ میں بچوں کے غربت ،صحت اور سلامتی کے مسائل انتہائی افسوس ناک ہیں۔رپورٹ میں امریکی ماہرین تعلیم کے سروے کی بعض رپورٹوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی ماہرین تعلیم کا خیال ہے امریکی جمہوریت ’’رقم میں ڈوب رہی‘‘ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017میں امریکہ میں نسلی تعلقات انحطاط کا شکاررہے اور قانون نافذ کرنے والے اور عدالتی محکموںمیں نسلی امیتاز پایا جاتا ہے۔

سیافام مرد مجرموں کو اسی جر م کے مرتکب سفید فام مجرموں کے مقابلے میں اوسطاً19.1فیصد سزا دی جاتی ہے رپورٹ میں یہ بات نومبر2017میں سزا دینے والے کمیشن کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔رپورٹ میں اس بات کا بھی زور دیا گیا ہے کہ امریکہ میںامیر اور غریب میں پایا جانے والا فرق بڑھتا جارہا ہے۔ جبکہ بے خانماں افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔

امریکی شماریات بیورو کے سرکاری اعدادوشمار میں بتایاگیا ہے کہ چالیس ملین سے زیادہ امریکی عوام غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں ان میں سے تقریباًنصف 18.5ملین انتہائی عسرت کی زندگی بسر کررہے ہیں رپورٹ کے مطابق دوسرے ممالک میں امریکی قیادت میں کی جانے والی فوجی کاروائیوں میں زبردست شہری اموات ہوئی ہیں گوانتا ناموں ڈے نظر بندی کیمپ میں غیر ملکیوں کو نظر بند رکھا ہوا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

امریکہ نے سائبر وار فیئر ٹولز بنائے ہیں اور غیر ملکی نیٹ ورکس کی جاسوسی اور ہیکنگ کی جارہی ہے۔شام میں فوجی کاروائیوں سے شہری جانی نقصان کی بہت بڑی تعداد میں شہری جانی نقصان ہوا ہے۔ یہ بات میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد اور امریکی بحریہ نے کم ازکم 12سکولوں 15مساجد اور پندرہ پلوں کے علاوہ رہائشی مکانات،ہسپتالوں ثقافتی نوادرات اور پناہ گزین کیمپ پر مبینہ طور پر بم باری کی ہے۔

مسلم ٹائمز ویب سائٹ نے چوبس جون 2017کو اطلاع دی کہ امریکی فوج نے حالیہ مہینوںمیں کم ازکم چار مرتبہ شامی حکومتی فوجوں پر حملے کیے ہیں۔ ان میں اپریل میں شامی ائیر فیلڈ پر کیا جانے والا میزائل حملہ بھی شامل ہے۔ایک امریکی سیاسی تجزیہ نگار مائیلس ہوئینگ نے کہا کہ امریکہ شام کے خلاف جارحیت کی جنگ کا ارتکاب کرکے امریکہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے۔