تعلیمی ادا رو ں کی بقا ء اور تحفظ کے لئے کسی بھی قر با نی سے گریز نہیں کریں گے، پرائیوٰٹ سکولز ایسوسی ایشن

بدھ اپریل 16:30

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ملک میں اگر معیاری تعلیم کا کوئی ڈھانچہ موجود ہے تو وہ نجی تعلیمی شعبہ کی شکل میں مو جو د ہیں چیف جسٹس آف پاکستان سے فیصلے پر نظر ثا نی کا مطا لبہ کر تے ہیں،تعلیمی ادا رو ں کی بقا ء اور تحفظ کے لئے کسی بھی قر با نی سے گریز نہیں کریں گے دشمن کے بچو ں کو پڑھا نا بھی مستحسن عمل ہے لیکن اپنے بچو ں پر تعلیم کے در وا زے بند کر نا علم دشمنی ہے ملک کے سو فیصد شر ح خوا ند گی کے حصول تک تما م منفی سر گر میاں کا لعدم قر ار دی جا ئیں۔

(جاری ہے)

ان خیا لا ت کا اظہا ر جوا ئنٹ ایکشن کمیٹی برائے پرا ئیویٹ سکو لز اینڈ کا لجز کے کنو نیئر چو ہدری نا صر محمو د،ممبرا ن،ابرا ر احمد خا ن،محمد عثما ن،چو ہدری طیب،نسیم ملک،چو ہدری امجد زیب،عر فا ن مظفر کیا نی،اشرف ہرا ج،را جہ نصیر جنجو عہ،محمد ابرا ہیم،محمد شہبا زقمر،ندیم شیرا ز اور ملک ابرا ر احمد ایڈووکیٹ راولپنڈی پریس کلب کے با ہر احتجا جی مظا ہرے سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا،احتجا ج میںسینکڑوں اسا تذہ،طلبا ء نے شر کت کی جنھو ں نے ہا تھو ں میں پلے کا ر ڈز اٹھا رکھے تھے،مقررین نے اپنے خطا ب میں کہا ہے کہ نجی تعلیمی ادا رو ں کی کینٹ کے علا قو ں سے بتدریج منتقلی کے با رے میں سپریم کو ر ٹ آف پاکستان کے فیصلے پر انتظا میہ کی من مر ضی،اور سکو ل ما لکا ن کو ہرا سا ں کیئے جا نے کے واقعا ت عا م ہو نے پر جوا ئنٹ ایکشن کمیٹی آف پرا ئیویٹ سکو لز و کا لجز ایسو سی ایشن کا قیا م عمل میں لا یا گیا،ہما را احتجا ج گذشتہ تین ما ہ سے جا ری ہے،آج کے علا متی کلا س روم قا ئم کر نے کا مقصد یہ تھا کہ اگر نجی تعلیمی ادا رے زو ر زبر دستی سے بند کیئے گئے تو ہم سڑکو ں پر درس و تدریس کا عمل جا ری کر دیں گے،انھو ں نے مزید کہا ہے کہ راولپنڈی و چک لا لہ کینٹ بو ر ڈز نے فیصلے کی پہلی شق پر عمل کیا لیکن دوسری شق کی خلا ف ورزی کی جا رہی ہے،دو نو ں بو ر ڈز کی انتظا میہ نے پہلے سے مو جو د پا نچ تعلیمی ادا رو ں کو ختم کر کے دو تعلیمی ادا رو ں میں ضم کر دیا ہے،ساتھ ہی فیسو ں میں اضا فہ کر دیا ہے،یہ اقدا ما ت علم دشمنی کی وا ضع مثا لیں ہیں،اس لیئے عدا لت عا لیہ اس پر سو مو ٹو ایکشن لے،انھو ں نے مطا لبہ کیا ہے کہ ایم این اے ملک ابرا ر اس معا ملے کو نو ٹس لیں کیو نکہ پہلے ہی ملک کے ڈھا ئی کرو ڑ بچے سکو لو ں سے با ہر ہیں،اور اگر کینٹ علا قو ں سے سکو ل ختم یا منتقل کر دیئے گئے تو مزید تیس لا کھ بچے متا ثر ہو جا ئیں گے،حا لا نکہ 25 تر میم کے بعد سو لہ سال تک تعلیم دینا ریا ست کی ذمہ دا ری ہے،لیکن اس معا ملے میں ریا ست نا کا م ہو گئی ہے،آج شر خ خوا ند گی بڑھا نے میں نجی تعلیمی ادا رو ں کا کر دا ر اہم ہے،آخر میں انھو ں نے خیبر پختو نخوا ہ کے نجی تعلیمی ادا رو ں کے مالکا ن سے اظہا ر یکجہتی کا اعلا ن کیا اور خیبر پختو نخوا ہ کی ریگو لیٹری اتھا ر ٹی کے قیا م یکطر فہ،ظا لما نہ اور علم دشمن پر مبنی اقدا ما ت کی مذمت کی،ساتھ ہی یہ بھی اعلا ن کیا ہے کہ نو مئی کو راولپنڈی اسلا م آبا د و کینٹ بو ر ڈز کی حدود میں تما م نجی تعلیمی ادا رے احتجا جا بند ہو نگے اور اس دن ڈی چو ک اسلا م آبا د میں احتجا جی مظا ہرہ کیا جا ئے گا۔

متعلقہ عنوان :