آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسٹائل ویلیو چین حکومت کی اولین ترجیح ہو گی ،سی پیک منصوبے میں ٹیکسٹائل بھی ترجیحی سیکٹر ہے‘پرویز ملک

رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے حکومت کی طرف سے 50ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ،رواں سال برآمدات میں 7.17فیصد اضافہ ہوا عالمی ادارہ پرائس واٹر ہائوس کوپرز کے مطابق پاکستان کی معیشت 2030ء تک دنیا کی 20ویں بڑی ،2050ء تک دنیا کی 15ویں بڑی معیشت ہو گی‘وفاقی وزیر تجارت کا مقامی ہوٹل میں ٹیکس ٹاک میگزین کے زیر اہتما م ’’انسپائرنگ پاکستان‘‘کانفرنس سے خطاب

بدھ اپریل 16:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ میں ٹیکسٹائل ویلیو چین حکومت کی اولین ترجیح ہو گی جبکہ سی پیک پراجیکٹ میں انرجی اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ ٹیکسٹائل بھی ترجیحی سیکٹر ہے ،رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے حکومت کی طرف سے 50ارب روپے کی رقم جاری کی گئی جس کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال برآمدات میں 7.17فیصد اضافہ ہوا ہے ،عالمی ادارہ پرائس واٹر ہائوس کوپرز کے مطابق پاکستان کی معیشت 2030ء تک دنیا کی 20ویں بڑی جبکہ2050ء تک دنیا کی 15ویں بڑی معیشت ہو گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ٹیکس ٹاک میگزین کے زیر اہتما م ’’انسپائرنگ پاکستان‘‘کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی۔وفاقی وزیر پرویز ملک نے کہا کہ 2013ء میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا ،ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر دو ہفتوں کی برآمدات کے برابر رہ گئے تھے جبکہ بڑے پیمانے پر ادائیگیاں التواء کا شکار تھیں،ڈویلپمنٹ پارٹنرز پاکستان میں سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے تا ہم موجودہ حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کی بدولت گزشتہ پانچ سالوں میں نہ صرف معیشت بحال ہوئی بلکہ معاشی شرح نمو رواں مالی سال جی ڈی پی کے مقابلے میں 6فیصد ہونے کا امکان ہے جو گزشتہ 10سال کے دوران سب سے زیادہ شرح نمو ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کیپٹل مارکیٹس ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے درجہ پر اپ گریڈ ہوئی ہیں،ہماری 20کروڑ 70لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی بہترین انسانی وسائل کے مواقعوں کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور کپڑے کا شعبہ پاکستان کے بے مثال پیدواری شعبہ کی پہچان ہے اور یہ ہماری برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے، ہمارے کاروباری افراد کی انٹر پرینیور میں مہارتوں کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کے ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت سے وابستہ اہم ممالک میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ نجی شعبہ نے پروڈکشن چین میں خود انحصاری پیدا کر کے پاکستان کو مثالی بنا دیا ہے اور کاٹن سے جننگ، ویونگ، پراسیسنگ، فننشنگ اور فیبرکس سے ہوم ٹیکسٹائل اور اپیرل تک ٹیکسٹائل کے شعبہ میں تمام مہارتیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مختلف سہولیات مہیا کی ہیں جن میں طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت پر شرح سود 11.4سے کم کر کی5فیصد کر دیا گیا ہے اور اس سہولت میں جننگ اور سپننگ سیکٹر بھی شامل ہیں،2017-18کیلئے ٹیکسٹائل مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد جاری ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے گیس اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی ،ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ سکیم2016-19 کا اجراء کیا گیا جس کیلئے سٹیٹ بینک کو سال 2016-17کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پیکیج کے تحت ٹیکسٹائل مشینری کو زیرو ریٹڈ کرنے کے ساتھ ساتھ پلانٹ بریڈرز رائٹ بل کا نفاذ یقینی بنایا گیا ہے،وزیر اعظم پیکیج کے تحت ٹیکس کے ڈیوٹی ڈرا بیک میں گارمنٹ کے شعبہ کو7فیصد ،میڈ اپس کو6فیصد ،پراسیسڈ فیبرکس کو5فیصد اور یارن اینڈ گریج فیبرکس کو4فیصد کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے حکومت کی طرف سے 50ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور ٹیکسٹائل برآمدات رواں مالی سال گزشتہ مالی سال کی نسبت7.17فیصد بڑھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کی بدولت پاکستانی معیشت نے گزشتہ پانچ سالوں میں نمایاں ترقی کی ہے جبکہ سی پیک پراجیکٹ میں انرجی اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ ٹیکسٹائل بھی ترجیحی سیکٹر ہے ۔