چیف جسٹس ٹھیکیداراری سسٹم کے ذریعے کی جانے والی غیر آئین بھرتیوں کا نوٹس لیں ، لیا قت ساہی

بدھ اپریل 16:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) مزدوررہنما لیا قت علی ساہی سیکریٹری جنرل ڈیمو کریٹک ورکرز فیڈریشن اور اسٹیٹ بینک کی سی بی اے یونین نے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے ڈ ڈبلیو ڈی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو ممکن بنانے کے لئے مثبت اقدام کیا ہے ملک بھر کے محنت کش اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم وفاقی اور صوبوں میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں کی انتظامیہ اور مالکان گزشتہ بیس سالوں سے ملک کے دستور کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اداروں میں ٹھیکیداری نظام کو مسلط کرکے آئین کے آرٹیکل 17 ، 25 ،38 اور آئی ایل او کے کنوینشن 87 اور 98 کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بین القوامی سطح پر ملک کی اداروں کی بیوروکریسی اور مالکان ساکھ کو متاثر کروا رہے ہیں، کم سے کم ویجز کی ادائیگی ملکی سطح پر نہیں کی جارہی ، اوقات کار آئی ایل او کے کنونشن کے برعکس بارہ بارہ گھنٹے گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے کوئی دادا رسی کرنے والا نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

ہم چیف جسٹس آف پاکستان اس کا نوٹس لے کر آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ خط میں ملکی سطح پر ملک کے دستور اور بنیادی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی نشاندھی کی گئی ہے اس پر نوٹس لے کر کروڑوں محنت کشوں کو انصاف فراہم کیا جائے انتہائی دُکھ کی بات ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس سلسلے میں بڑی غٖفلت کا مظاہرہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خاموشی اختیار کرکے ووٹر کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اگر ملکی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں ٹھیکیداری نظام کو ختم کرکے مستقل بھرتیاں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کرنے کے احکامات جاری کرکے ملکی سطح پر انصاف کی رٹ کو قائم کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :