اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید حد تک مزاحم ایکس ڈی آر کو نیشنل پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری

بدھ اپریل 16:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ٹائیفائیڈ کی نئی ویکسین ٹائیفائیڈ کونجیگیٹ ویکسین کو نیشنل ایکسپینڈڈ پروگرام فار امیونائزیشن میں شامل کیا جا رہا ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید حد تک مزاحم ایکس ڈی آر کو نیشنل پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے تحقیقی ماہرین نے نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے اجلاس میں اعدادوشما رپیش کرتے ہوئے بتایاکہ ٹائیفائیڈ کونجوگیٹ ویکسین محفوظ پائی گئی اور اور جن بچوں کو یہ ویکسین دی گئی ہے ان میں سے 99.7 بچوں میں اس کے کوئی ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے،جبکہ 2016 سے اب تک صرف حیدرآباد اور کراچی میں ایکس ڈی آر کے 1000 سے زائد مریض سامنے آئے ہیں۔

یہ سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے کیونکہ 2009 سے 2014 کے دوران پاکستان بھر میں ادویات کے خلاف مزاحم ٹائیفائیڈ کے محض 6 کیسز سامنے آئے تھے۔

(جاری ہے)

۔ ٹائیفائیڈ کا علاج مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اس مرض کے بچوں میں خطرناک حد تک پھیلاو کی نشاندہی سب سے پہلے پچھلے سال حیدرآباد میں کی گئی۔ وفاقی حکومت کے ایکسپینڈڈ پروگرام فار امیونائزیشن ای پی آئیکے نیشنل پروگرام مینیجر ڈاکٹر سید ثقلین احمد گیلانی نے بتایا،ٹائیفائیڈ کونجوگیٹ ویکسین کو متعارف کروانے کے لیے جی اے وی آئی کی جانب سے 85 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت کا عہد پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے۔