پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

اسلامی بینک کی مبینہ طور پر ایک ہزار روپے میں فروخت اور اس حوالے سے ایم سی بی اور چینی پیشکشوں کو نظرانداز کرنے کے معاملہ پر سٹیٹ بینک پر سخت برہمی کا اظہار آڈیٹر جنرل آفس اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو مالی معاملات بارے آئندہ ہفتہ تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت

بدھ اپریل 17:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اسلام آباد ۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اسلامی بینک کی مبینہ طور پر ایک ہزار روپے میں فروخت اور اس بینک کے حوالے سے ایم سی بی اور چینی پیشکشوں کو نظرانداز کرنے کے معاملہ پر سٹیٹ بینک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ قومی احتساب بیورو اس معاملہ کا ازخود نوٹس لیں، پی اے سی نے آڈیٹر جنرل آفس اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو آئندہ ہفتہ تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس بدھ کو پی اے سی کے چیئرمین سیّد خورشید احمد شاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان راجہ جاوید اخلاص، سردار عاشق حسین گوپانگ، سینیٹر چوہدری تنویر خان، سینیٹر ہدایت اللہ، شفقت محمود، سینیٹر شیری رحمن، شاہدہ اختر علی، سینیٹر مشاہد حسین سیّد،، سیّد نوید قمر، جعفر خان لغاری کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

آغاز میں سیّد خورشید احمد شاہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اے جی پی آر کا کوئی افسر نہیں آتا، انہیں خط لکھا جائے اور ان کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ آڈیٹر جنرل آفس کا تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹ یقینی بنایا جائے۔ سردار عاشق حسین گوپانگ نے کہا کہ آڈیٹر جنرل اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی ای) دونوں کو اوپن بریفنگ دینی چاہئے۔

پی اے سی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتہ کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس اور آڈیٹر جنرل آفس کے حوالے سے پی اے سی کو بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔ فنانس ڈویژن کے 2015-16ء کے آڈٹ اعتراضات ک جائزہ کے دوران اے جی پی آر کی طرف سے ریٹائرڈ ملازمین کے چیکوں میں تاخیر کے حوالے سے پی اے سی کے ارکان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ مالی مشکلات کے دور میں چیکوں کی عدم فراہمی سے ملازمین کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، انہیں اس کا خیال رکھنا چاہئے۔

سیّد خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اگر اے جی پی آر کے افسران یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ انہیں بھی ریٹائر ہونا ہے تو پھر یہ حالات نہیں رہیں گے۔ سیکرٹری خزانہ عارف احمد خان نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ نے اس مد میں 140 ارب سے زائد ایسی ادائیگیاں کی ہیں جن کا بجٹ میں ذکر ہی نہیں ہوتا۔

سیّد نوید قمر نے کہا کہ وزارت کے بجٹ میں منصوبہ بندی کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزارت خزانہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس سال کتنے لوگوں نے ریٹائر ہونا ہے، اس کو مدنظر رکھ کر ان کی پنشن کا بجٹ مختص کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت 6 لاکھ 56 ہزار سول ملازمین اور 7 لاکھ 20 ہزار فوج کے ملازمین کو تنخواہیں دیتی ہے۔

آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اے جی پی آر کے پاس ریٹائر ہونے والے تمام ملازمین کے اعدادوشمار موجود ہوتے ہیں، منصوبہ بندی کیلئے ان کی مدد لی جا سکتی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہم نے رواں سال ایک ہزار ایک ارب روپے مختص کئے تھے جن میں سے رواں سال 750 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ سیّد خورشید احمد شاہ نے کہا کہ جہاں خرچ ہونا ہوتا ہے وہاں رقوم فراہم نہیں کی جاتیں، ملک میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے، سکول اور صحت کی سہولیات نہیں ہیں، منصوبہ بندی کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں 25 فیصد رقم خرچ نہیں ہوتی۔

سیکرٹری خزانہ نے پی اے سی کے مؤقف سے اتفاق کیا۔ سیّد نوید قمر نے کہا کہ یہ سقم دور ہونا چاہئے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ یہ اکیلے آدمی کا کام نہیں ہے، پورے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فنڈز منصوبہ بندی ڈویژن کی سفارش پر فراہم کرتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی سے باہر ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ اس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر شعبوں کیلئے رکھی گئی رقم شامل ہے جبکہ وزیراعظم کا صوابدیدی فنڈ شامل نہیں ہے، یہ رقم وقتاً فوقتاً ای سی سی اور کابینہ کی منظوری کے بعد خرچ کی جاتی ہے، اس میں یوریا کی درآمد کیلئے بھی رقم شامل کی جاتی ہے، اس میں سبسڈی کی رقم بھی شامل ہوتی ہے۔

شفقت محمود نے کہا کہ 162 ارب کی رقم خرچ کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ اس کا فیصلہ ہونا چاہئے کہ یہ رقم ترقیاتی ہے یا غیرترقیاتی، یہ رقم صوابدید کے تحت خرچ کرنے کیلئے مختص کی جاتی ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری خزانہ ظہور احمد نے کہا کہ ہر دفعہ یہی ہوتا ہے۔ اس پر سیّد خورشید احمد شاہ نے وزارت خزانہ کے حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کو مکمل تیاری کے ساتھ پی اے سی میں پیش ہونا چاہئے۔

چیئرمین پی اے سی نے جوائنٹ سیکرٹری خزانہ ظہور احمد کے رویے کے حوالے سے پی اے سی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھ کر بھیجا جائے کہ انہیں خزانہ کے بارے میں درست معلومات نہیں ہیں اور یہ بات ان کی اے سی آر میں بھی شامل کی جائے۔ پی ٹی وی کے ری براڈکاسٹ سینٹرز کی تعمیر کیلئے رقم خرچ نہ ہونے پر پی اے سی کو بتایا گیا کہ زیارت، خپلو، کوٹلی ستیاں، بدین، خاران، بارکھان، اٹھ مقام سمیت دیگر مقامات پر امن و امان کی صورتحال، عدالتی چارہ جوئی اور زمین کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ منصوبے شروع نہ ہو سکے۔

سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ متعلقہ وزارت کی کارکردگی کے حوالے سے پی اے سی بازپرس کر سکتی ہے۔ اس پر پی اے سی نے وضاحت کیلئے سیکرٹری اطلاعات کو پی اے سی میں طلب کر لیا۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ سٹیٹ بینک نے بینک اسلامی کو 2014-15ء میں مارکیٹ سے کم شرح سود پر 15 ارب روپے قرضہ دیا اور بعدازاں مزید 10 سالوں کیلئے 0.01 فیصد شرح سود پر 5 ارب روپے دینے سے 43 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔

پی اے سی کے استفسار پر ڈپٹی گورنر محمد جمیل نے کہا کہ سٹیٹ بینک اپنے قواعد کے تحت کسی بھی بینک کو مالی مشکلات سے نکلنے کیلئے رقم فراہم کرنے کا مجاز ہے۔ پی اے سی کے ارکان نے کہا کہ یہ بینک من پسند افراد کو انتہائی کم قیمت میں بیچ دیا گیا ہے۔ پی اے سی کے استفسار پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ اس بینک کے بڑے حصہ دار کا نام علی حسین ہے جو سنگاپور میں مقیم ایک پاکستانی ہے۔

پی اے سی کے چیئرمین سیّد خورشید احمد شاہ کہا کہ سپریم کورٹ اس کا ازخود نوٹس لے، یہ 19 ارب روپے کا اہم معاملہ ہے، یہ بینک ایک ہزار روپے میں بیچ دیا گیا۔ ڈائریکٹر فنانس سٹیٹ بینک نے کہا کہ اس بینک کے اثاثے اس کی ذمہ داریوں سے بہت کم تھے، بینک انتظامیہ کھاتہ داروں کے بقایا جات دے رہی ہے، ہم یہ قدم نہ اٹھاتے تو ڈیڑھ لاکھ کھاتہ داروں کی رقم ڈوب جاتی۔

سیّد نوید قمر نے کہا کہ ان معاملات کو شفاف انداز میں ہونا چاہئے، سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دے دیا ہے کہ یہ معاملہ شفاف نہیں ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ نیب نے رپورٹ میں کہا ہے کہ سٹیٹ بینک حکام نے اس معاملے میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ پی اے سی نے کہا کہ اس بینک کی خریداری کیلئے ایم سی بی اور چینی سرمایہ کار کی پیشکشوں کو نظرانداز کیا گیا۔

چیئرمین نیب اور سپریم کورٹ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔ مسابقتی کمیشن کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران چیئرمین مسابقتی کمیشن نے پی اے سی کو بتایا کہ ان کے ادارہ کی طرف سے مختلف اداروں کو کئے گئے جرمانوں سے متعلقہ 26 ارب سے زائد کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت ہیں جس پر سیّد نوید قمر نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس معاملہ پر بھی غور کرنا چاہئے۔ سیکرٹری خزانہ عارف احمد خان نے پی اے سی کو بتایا کہ بینکوں میں سرکار کے 1.8 ٹریلین روپے جمع ہیں، اس کے باوجود ہم سے سود کی مد میں رقم لی جاتی ہے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل کو پی اے سی سیکرٹریٹ کی جانب سے خط لکھ کر سرکاری رقوم سے متعلقہ مقدمات کی فوری جلد سماعت کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔