پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کی متفقہ منظوری حکومت کا قابل ستائش اقدام ہے، شیخ عامر وحید

بدھ اپریل 17:46

پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کی متفقہ منظوری حکومت کا قابل ستائش ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید، سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے سیتیسویں اجلاس میں پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری حکومت کا ایک قابل ستائش اقدام ہے کیونکہ پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ دن بدن سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے جس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو معیشت کی ترقی بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کا تمام تر دارومدار پانی کی وافر مقدار میں دستیابی پر ہے کیونکہ پانی کی دستیابی کے بغیر زرعی ترقی ناممکن ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی 60فیصد سے زائد برآمدات بھی زرعی مصنوعات پر انحصار کر رہی ہیں جبکہ زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریبا 20فیصد حصہ ڈال رہی ہے ۔

(جاری ہے)

ان حالات میں ملک میں پانی کی وافر مقدار میں دستیابی اشد ضروری ہے جس کیلئے قومی واٹر پالیسی وقت کی اہم ضرورت تھی۔

شیخ عامر وحید نے کہا کہ پاکستان کا آبپاشی نظام موجودہ پانی کا 90فیصدا ستعمال کرتا رہا ہے جس سے معیشت کی ترقی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور حکومتی اندازے کے مطابق ہماری آبادی 2025تک 22کروڑ سے زائد ہو جائے گی جس کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے، برآمدات کو بہتر فروغ دینے اور معیشت کی پائیدار ترقی یقینی بنانے کیلئے زرعی پیداوار میں خاظر خواہ اضافہ ضروری ہے۔

انہوںنے کہا کہ پانی کی دستیابی کو یقینی بنائے بغیر ان مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ انہوںنے کہا کہ ملک کا صنعتی شعبہ اس وقت صرف 2فیصد پانی استعمال کرتا ہے لیکن 2025تک صنعتی ترقی کیلئے اس میں تین گنا اضافہ متوقع ہے جس کے لئے پانی کے ذخائر کی تعمیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی سے سب سے سستی بجلی پیدا ہوتی ہے اور پاکستان بجلی کی کل پیداوار میں پن بجلی کا حصہ بڑھا کر کاروباری لاگت میں نمایاں کمی کر سکتا ہے لیکن اس وقت پانی سے صرف 28فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پن بجلی کی زیادہ پیداوار کیلئے پانی کے ذخائر پر خصوصی توجہ سے جس سے صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو گی۔

انہوںنے کہا کہ قومی واٹر پالیسی میں حکومت نے پانی کے مزید ذخائر تعمیر کرنے اور پن بجلی کی زیادہ پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنے کے عزائم ظاہر کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ زندگی کے تمام شعبوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور پانی کے شعبے میں پاکستان کو خود کفیل ملک بنانے کے اہداف رکھے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام مقاصد کے حصول کیلئے یہ ضروری ہے کہ حکومت قومی واٹر پالیسی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے تا کہ پانی کے مسائل کو حل کر کے ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہوں پر ڈالا جا سکے۔