انٹرنیشنل سطح پر میڈلز جیتنا آسان نہیں، حکومت تعاون کرے تو قومی ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میں ملک و قوم کا نام روشن کر سکتی ہے، چوہدری محمد یعقوب

بدھ اپریل 17:46

انٹرنیشنل سطح پر میڈلز جیتنا آسان نہیں، حکومت تعاون کرے تو قومی ٹیم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان والی بال فیڈریشن (پی وی ایف) کے چیئرمین چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل سطح پر میڈلز حاصل کرنا آسان نہیں، حکومت تعاون کرے تو ہماری ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میں ملک و قوم کا نام روشن کر سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان سپورٹس کمپلیکس کے میڈیا سنٹر میں انٹرنیشنل والی بال فیڈریشن کے ڈائریکٹر لوئیس کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر پاکستان والی بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل انجینئر شاہ نعیم ظفر، ایرانی کوچ حامدی اور قومی کوچ مظہر گوجر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایشین سنٹر زون والی بال چیمپئن شپ رواں سال اکتوبر میں لیاقت جمنازیم، اسلام آباد میں کھیلی جائے گی جس کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، ایونٹ میں پاکستان،، بھارت ، بنگلہ دیش،، بھوٹان، سری لنکا،، مالدیپ، نیپال، افغانستان،، ایران،، قازقستان اور ازبکستان سمیت 14 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ لوئس پاکستان میں والی بال کے موجودہ سیٹ اپ اور سیکورٹی کی صورتحال دیکھنے آئے ہیں اور ان کو اس سلسلے میں تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان والی بال فیڈریشن ملک میں کرکٹ اور کبڈی کی طرح اس سال ستمبر میں سپر لیگ کروانے جا رہی ہے، لیگ میں تمام انٹرنیشنل ٹیموں کو شرکت کی دعوت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں والی بال کے تین کیمپ جاری ہیں جن میں یوتھ، جونیئر اور سنئیر شامل ہیں۔

چوہدری یعقوب نے قومی ٹیم کی انٹرنیشنل سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ قومی ٹیم یوتھ، جونیئر اور سنئیر ٹیمیں بحرین، ایران اور ترکی میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیلنج کپ عالمی کوالیفیکیشن ٹورنامنٹ آئندہ ماہ مئی میں قازقستان میں کھیلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر لوئیس سے خصوصی گزارش کی کہ پاکستان کو ایک اور کوچ فراہم کریں، بجٹ کی کمی ہمیشہ والی بال کے فروغ میں حائل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ والی بال کے مستقبل کے لیے پالیسی ترتیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 60 فیصد وسائل مینز والی بال، 20 فیصد فیصد خواتین والی بال اور 20 فیصد بیچ والی بال پر خرچ کرینگے۔ اس موقع پر لوئیس نے کہا کہ دیکھنے آیا ہوں پاکستان میں والی بال کے فروغ کے لیئے کتنی گنجائش موجود ہے، بلاشبہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں بہت پوٹینشل ہے اور پاکستان والی بال کی کارکردگی سے کافی مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی وی بی کو رپورٹ کروں گا کہ پاکستان والی بال کے فروغ کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔