اسمبلی فلورپر آوازاٹھانے کے باوجود وفاق میں بلوچستان کی آواز نہیں سنی جاتی، انجینئر میر عثمان بادینی

قومی اسمبلی میں تفتان سے کچلاک تک کے مسائل اجاگر کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا جا رہا، بلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت پر منحصر،جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ،رکن قومی اسمبلی کی پریس کانفرنس

بدھ اپریل 18:04

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام کے رہنما رکن قومی اسمبلی انجینئر میر عثمان بادینی نے کہا ہے اسمبلی فلورپر آوازاٹھانے کے باوجود وفاق میں بلوچستان کی آواز نہیں سنی جاتی،،قومی اسمبلی میں تفتان سے کچلاک تک کے مسائل اجاگر کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا جا رہا، بلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت پر منحصر،جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ،کیسکو چیف سے تین دن سے رابطے کی کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہو پا رہا،سابقہ تعلیمی ایمرجنسی کادعویٰ تو کیا گیا مگرامیر ترین صوبے کے لوگ فرش پر بیٹھ کربی اے کے امتحان دے رہے ہیںجو شرمناک عمل ہے،،بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف نوشکی کے زمیندار ایکشن کمیٹی آج کوئٹہ تفتان آرسی ڈی شاہراہ کو مکمل طورپربند کردیںگے،انہوں نے یہ بات بدھ کے روز اسلام آباد روانگی سے قبل دیگر پارٹی کے رہنمائوں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اس موقع پرضلعی جنرل سیکرٹری جمعیت نوشکی مولانا منظور احمد مینگل، مفتی کفایت اللہ، نوشکی کے زمیندار حاجی محمد اشرف اورحاجی خورشید احمد ودیگر بھی موجود تھے، رکن قومی اسمبلی انجینئر میر عثمان بادینی کاکہنا تھا کہ عوام امید کیساتھ نمائندوں کو اسمبلی بھیجتے ہیں ، تفتان سے کچلاک اور سورینج تک پھیلے ہوئے طویل حلقے کے مسائل اسمبلی فلور پر بھی اجاگر کئے مگر تاحال قومی ادارے انہیں حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ، عوام بھی منتخب نمائندوں سے مایوس ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کی معیشت کا دارومدار زراعت پر اور زراعت کاانحصار بجلی پر ہے مگر کیشنگی میں 3گھنٹے جبکہ دیگر دوردراز علاقوںمیں 6گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،عوام سے روزگار کاحق تو چھین لیا گیا اور ابھی لوڈشیڈنگ کرکے کیسکو حکام زمینداری بھی چھین رہے ہیں،نوشکی میں ابھی گندم سمیت دیگر فصلوں کا سیزن ہے اور اس وقت کیسکو بجلی بندکرتی ہے،تو دو ماہ بعدہمیں ریلیف کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ بجلی کاٹرانسفارمر جل جانے کی صورت میں ایکسین کہتا ہے کہ خود مرمت کرلیں تو ہم بل کس چیز کا دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے تفریحی مقام ہنہ اوڑک میں صرف 7گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے،کچلاک سے بلوں کی صورت میں100فیصد ریونیو جمع ہوتا ہے مگر پھر بھی وہاں9گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، جبکہ سریاب فیڈرمیں بھی یہی صورتحال ہے ،انہوں نے کہا کہ اگرکیسکو کایہی رویہ رہا تو لوگ مجبوراًروڈوں پر آکر سکون کا ماحول خراب کردیںگے ،انہوں نے کہا کہ میرے حلقے سے منسلک تفتان زیروپوائنٹ سے 5ہزار لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے جو کہ اب بند کردیا گیا،اسلام آبادمیں فلور اور سی بی آر سی پر بھی بات ہوئی مگر پھر بھی زیروپوائنٹ کو بندرکھا گیا ہے، ایران نہیں پاکستانی حکام نے زیروپوائنٹ کو بندکردیا ہے ،روزگار کے مواقع نہ دے کر بجلی بھی بند کردیں تو لوگ اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے کے بعد پریس کانفرنس کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ زمیندار ایکشن کمیٹی نوشکی آج مکمل طورپر تفتان کوئٹہ آر سی ڈی شاہراہ اور نوشکی شہر کومکمل طورپر بندکردے گی ،پہلے مرحلے میں پہیہ جام، پھر شہر اور مسئلہ حل نہیں کیا گیا تواحتجاج کو وسعت دیںگے،،بلوچستان میں تمام شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ، ایک سوال کے جواب میں انجینئرمیر عثمان بادینی کاکہناتھا کہ جمعیت علماء اسلام ایک سیاسی جماعت ہے اور ہم پریقین رکھتے ہیں کہ مسائل روڈوں کی بجائے اسمبلی فلور پر مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ،افسر شاہی کے کان بنداور وہ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، میں بطور رکن قومی اسمبلی کیسکو چیف سے مسلسل 3دن سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں مگر وہ بات نہیں کررہے تو عوام کی کیا حالت ہوگی،شہر بھی ہمارا ملک بھی ہمارا اور لوگ بھی ہمارے ہیں،انہوں نے کہا کہ گزشتہ دورحکومت میں تعلیمی ایمرجنسی کی بات کی گئی مگر افسوس کہ امیر ترین صوبہ بلوچستان کے عوام ٹاٹ کے بغیرفرش پر بیٹھ کر بی اے کاامتحان دینے پر مجبور ہیں، اگر ہم طلباء کو کرسی تک مہیا نہ کرسکے اور پھر بھی دعوے کئے جارہے ہیںتویہ شرمناک عمل ہے،انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن کا حصہ ہوتے ہوئے مل کرمیر عبدالقدوس بزنجو کو اقتدارمیں لایااس وقت باپ کانام ونشان نہیں تھا ، بطورقومی اسمبلی کاممبر مجھی7مہینے ہورہے ہیں اورابھی الیکشن کمیشن نے پابندی لگا کر ہمیں کام کرنے نہیں دیا،مجھے پتہ چلا کہ وفاق میں بلوچستان کی نہیں سنی جاتی، ہم صرف 18ممبران ہیں قومی اسمبلی میں،کم ہونے کی وجہ سے وفاق میں بلوچستان کی نہیں سنی جاتی ،گزشتہ سال بھی میاں غنڈی میں احتجاج کے دوران 4لوگ شہید ہوئے ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کے واقعات میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی شہادتوں پر افسوس ہوا، اس میں پشتون،بلوچ اور پنجابی سب شامل ہیں جو ہم میں سے ہیں اور ملک کے دفاع کیلئے آئے تھے۔