مصطفی کمال کی جانب سے نئی مردم شماری کے نتائج کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں درخواست دائر

کراچی کی آبادی کو کم بتایا گیاپورے ملک سے لوگ حجرت کرکے کراچی آتے ہیں کسی اور صوبہ میں نہیں جاتے ،چیئرمین پی ایس پی

بدھ اپریل 18:14

مصطفی کمال کی جانب سے نئی مردم شماری کے نتائج کے خلاف سپریم کورٹ کراچی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پی ایس پی چیئرمین مصطفی کمال کی جانب سے نئی مردم شماری کے نتائج کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پٹیشن جمع کروادی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق کراچی کی رجسٹرڈ آبادی دوکروڑ 15 لاکھ ہے، مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو 1کروڑ ساٹھ لاکھ ظاہر کیا گیا ہے،،کراچی کے بیشتر علاقوں کو مردم شماری میں شمار ہی نہیں کیا گیا، کراچی کی آبادی دانستہ کم ظاہر کرکے جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا، مردم شماری میں نادرا سے بھی مدد نہیں لی گئی، تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی نہیں کرایا گیا، مردم شماری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جا? آبادی کم ظاہر کرنے سیکراچی کے وسائل غصب ہوں گے، کراچی کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے پٹیشن میں ادارہ شماریات، وفاقی حکومت، چیئرمین نادرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چئیر مین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاک سر زمین پارٹی اس وقت صوبے میں سب سے بڑی جماعت ہے اگر میئر،،کراچی کو صاف کرنا چاہے تو جو فنڈز مل رہے ہیں اس میں اب تک کراچی صاف ہوجانا چائیے تھا یہاں میئر ہو یا حکومت سندھ ہو سب کے کام عدالتوں کو کرنے پڑرہے ہیں ہمارے دور میں عدالتوں کو یہ کہنا نہیں پڑتا تھا کہ شہر کا کچرا صاف کرو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیں شروع سے ہی مردم شماری پر تحفظات تھے، ہم نے سیاست سے بالاتر ہوکر تمام دستاویزات جمع کراء ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ ریوینیو فراہم کرنے والا شہر ہے جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے کراچی میں جو آبادی مردم شماری میں بتائی گئی وہ آبادی غلط بتائی گئی ہے کراچی میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے کم آبادی نہیں ہے جبکہ مردم شماری میں 1 کروڑ 59 لاکھ بتائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق کراچی کی آبادی 2 کروڑ 14 لاکھ تھی یہ ڈیٹا پی پی کے سینیٹر تاج حیدر کی درخواست پر جمع کرایا گیا ایسی کیا بات ہوئی جو آبادی بڑھنے کے بجائے کم ہوگئی انہوں نے کہا کہ لاہور کی آبادی ہر سال 3 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ کراچی کی آبادی 1.5 فیصد بڑھ رہی ہے ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی،،،پاکستان کا سب سے بڑاشہر ہے یہاں کی آبادی کو کم بتایا گیاجو لوگ پورے ملک سے حجرت کرکے آ تے ہیں وہ کراچی آتے ہیں کسی اور صوبہ میں نہیں آتے انہوں نے کہا کہ 2020 میں کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہوجائیگی کراچی کی آبادی لاہور کے مقابلے میں 20 فیصد کے تناسب سے بڑھ رہی ہے جسکے لئے وزیر اعلیٰ کو لڑنا چائیے تھا کراچی کے لئے یہ کام ان کا تھا وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں انہو ں نے کہا کہ بجٹ میں کراچی کی آبادی مردم شماری میں کم ظاہر کرنے کی وجہ سے فنڈز بھی کم دیئے جائینگے جسکی وجہ سے کراچی میں تعمیر و ترقی کا عمل انتہائی متاثر ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور مختلف محکموں کو چلانا بھی مشکل ہوجائیگا عوام پر مہنگائی کا بوجھ پڑیگا اور کراچی کے شہری پانی،، بجلی،، مکان، روٹی، سڑکیں اور دیگر چیزوں سے محروم ہوجائینگے انہوں نے کہا کہ درخواست دائر کرنے کا مقصد الیکشن کی تاریخ کو التواء کرنا نہیں ہے میں نے پہلے بھی یہ آواز عدالت میں اٹھائی تھی لیکن آج ہم مکمل دستاویزات کے ساتھ آئے ہیں اور عدالت میں اس معاملہ کو اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو شناختی کارڈ بنوانے میں انتہاء دشواری پیش آرہی ہے میں نادرا سے اپیل کرتا ہو کہ نادرا لوگوں کے کارڈ جاری کریے اور میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ کراچی کی مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے نوٹس لیں