حکومت نے وادی نیلم کو مسائل کی دلدل میں دھکیل کر رکھ دیا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کی پشت پناہی میں بد کردار لوگ ریاست کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں‘

جعلی دستاویزات پر سر سبز جنگلات کاٹ کر سمگلنگ کی جارہی ہے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماہ امیدوار قانون ساز اسمبلی سردار قاضی محمد اسرائیل کی بات چیت

بدھ اپریل 18:58

آٹھ مقام(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماہ امیدوار قانون ساز اسمبلی سردار قاضی محمد اسرائیل نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی نیلم کو مسائل کی دلدل میں دھکیل کر رکھ دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی پشت پناہی میں بد کردار لوگ ریاست کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ جعلی دستاویزات پر سر سبز جنگلات کاٹ کر سمگلنگ کی جارہی ہے۔

ضلعی ہیڈکواٹر آٹھمقام سمیت سیاحتی مقامات کی قیمتی زمینوں پر چورلٹیرے قبضہ مافیا کا روپ دھار چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ سرکاری دفاتر میں غریب سائلین سے فیس کے نام پر رشوت ڈنکے کی چوٹ پر وصول کی جاتی ہے۔ رشوت خور بھتہ خور لینڈ مافیا ٹمبر مافیا ریاستی وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں سپیکر اسمبلی نے ذاتی عناد پر سیاحت کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔

(جاری ہے)

سڑکیں پل صراط کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ شاہرائے نیلم کی بہترگی مرمتگی کے 70 کروڑ کے فنڈز جون میں لیپس ہو جائیں گے اور کچھ مخصوص جیبوں میں چلے جائیں گے۔ لیکن شاہرائے نیلم کی ابتر صورتحال کی وجہ سے آئے روز حادثات سے قیمتی جانیں جائع ہورہی ہیں۔ مسیحائی کا دعویدارنیلم سے بھاری مینڈیٹ لینے والاعوام کا مجرم بن چکا ہے۔ تمام مسائل ایک جگہ وادی نیلم کے عوام کے لئے سپیکر اسمبلی غلام قادر ایک بڑا مسئلہ اور مصیبت بن چکا ہے۔

عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے والے مقتدر صحافیوں کے خلاف موصوف کی طرف سے بے ہودہ زبان استعمال کرنے کی تحریک انصاف بھرپور مذمت کرتی ہے۔ عوام کا سوال ہے کہ سپیکر صاحب نو کروڑ لوکل گورنمنٹ کی ترقیاتی سکیموں کے نام پر کس کس کو کتنی سیاسی رشوت ملی زمین پر تو ایک اینٹ بھی موجود نہیں ہے۔ پائپوں کی خریدار ی میں دو کروڑ روپے کی کمیشن کس نے کھائی تحریک انصاف نے تمام دستاویزی ثبوت حاصل کر لئے بنی گالہ اور وائٹ ہائوس مظفرآباد کو نیلام کر کے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نیلم کے عوام خاموشی کے بجائے گریبان پکڑ کر حساب لیں پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے ساتھ ہی احتساب کا عمل آزاد کشمیر سے شروع کیا جائے گا۔