پاکستان نے اپنے شہریوں اورفوجیوں کے خون کی قربانیوں اور بھاری قیمت پراپنی سرزمین سے دہشتگردی ختم کی ، خرم دستگیر خان

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں120ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان اٹھایا ہے پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت اورپارلیمنٹ نے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے جامع قومی لائحہ عمل اپنایا ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کی15 ویں اجلاس سے خطاب

بدھ اپریل 19:18

پاکستان نے اپنے شہریوں اورفوجیوں کے خون کی قربانیوں اور بھاری قیمت ..
آسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) وزیر دفاع خرم دستگیر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے شہریوں اورفوجیوں کے خون کی قربانیوں اور بھاری قیمت پراپنی سرزمین سے دہشتگردی ختم کی ہے اور ہم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں120ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان اٹھایا ہے پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت اورپارلیمنٹ نے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے جامع قومی لائحہ عمل اپنایا ہے یہ بات انہوں نے بدھ کو شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے دفاع کی15 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ترجمان وزارت دفاع کے مطابق 2017ئ میں شنگھائی تعاون تنظیم میں توسیع کے بعد ایس سی او کا یہ پہلااجتماع تھا جس میں پاکستان اوربھارت نے مکمل رکن کے طورپرشرکت کی۔اس اجلاس کی صدارتچین کے سٹیٹ کونسلراوروزیر دفاع جنرل وائی فنگ نے کی۔

(جاری ہے)

انجینئرخرم دستگیرخان نے اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت کی جس میں جوائنٹ سٹاف کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل ظفرملک،وزارت خارجہ امور میں(ایس سی او) کے ڈی جی ظہور احمد اوربیجنگ میں پاکستان کے ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر احمد بلال شامل تھے۔

وزیردفاع خرم دستگیرخان نے کہاکہ افغانستان میں شورش وبدامنی سمیت داعش کی موجودگی ہمسایوں اورخطہ بھر کیلئے عدم تحفظ کا باعث ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت خطہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں پرتشدد وشدت پسندی،غربت،واٹرمینجمنٹ کی کمی،،منشیات،،پناہ گزینوں،انسانوں کی سمگلنگ اوربارڈرز کنٹرول شامل ہیں۔ خرم دستگیر نے کہاکہ اس وقت ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ مسائل درپیش ہیں تاہم ان مسائل سے ہمارے اجتماعی کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے انہوں نے اپنے ہم منصبوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ وہ جرا?ت مندی،یگانگت اور باہمی تعاون سے ان اجتماعی چیلنجز کا سامنا کریں۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام وزرائے دفاع نے ایس سی او کے پہلے اس باضابطہ اجلاس کے اعلامیہ پردستخط کئے جس میں امن واستحکام،ترقی وخوشحالی اورامن کیلئے مشترکہ کمیونٹی بنانے کے لئے شنگھائی سپرٹ کی حمایت کی گئی ہے اجلاس میں ایس سی او کے جن رکن ممالک نے شرکت کی ان یںچین،قزاخستان،کرغزستان،،روس،،تاجکستان،ازبکستان اوربھارت شامل ہیں جبکہ بیلاروس نے مبصر کے طورپرشرکت کی۔