مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دور حکومت کا آخری بجٹ کل پیش کرے گی

حجم 55کھرب روپے سے زیادہ ہوگا، بجٹ کی منظوری کے لئے ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی کی ایوان میں حاضری اور بجٹ کی منظوری حکومت کے لئے بڑا چیلنج بن گئی، حکومت نے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی اجلاس کل جمعہ کی شام ساڑھے چار بجے شروع ہوگا جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے تاہم انھیں بجٹ اجلاس کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا سامنا ہوگا ن لیگ کے منحرف اراکین سے بھی کہا ہے کہ وہ بجٹ منظور کروانے میں تعاون کریں، تحریک انصاف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت یہ بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی کیونکہ اس حکومت کوایک سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں

بدھ اپریل 19:23

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دور حکومت کا آخری بجٹ کل جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے جا رہی ہے جس کا حجم 55کھرب روپے سے زیادہ ہوگا تاہم اس بجٹ کی منظوری کے لئے ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی کی ایوان میں حاضری اور بجٹ کی منظوری حکومت کے لئے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور حکومت نے اس حوالے سے پیپلز پارٹی سے تعاون بھی مانگ لیا ہے جبکہ ن لیگ کے منحرف اراکین سے بھی کہا ہے کہ وہ بجٹ منظور کروانے میں تعاون کریں جبکہ تحریک انصاف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت یہ بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی کیونکہ اس حکومت کوایک سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی کا اجلاس کل جمعہ کی شام ساڑھے چار بجے شروع ہوگا جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے تاہم انھیں بجٹ اجلاس کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا سامنا ہوگا مسلم لیگ ن کے چیف وہپ شیخ آفتاب مسلم لیگ ن کے اراکین اور اتحادی جماعتوں جے یو آئی ف، مسلم لیگ فنکشنل ، نیشنل پارٹی ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو فون کر رہے ہیںکہ وہ جمعہ کو اجلاس میں موجود ہوں تاکہ اپوزیشن کے احتجاج کو ناکام بنایا جا سکے پیپلز پارٹی بھی بجٹ کے موقع پر احتجاج کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے تاہم تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں سے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اس حوالے سے بجٹ اجلاس سے قبل مشاورت کرینگے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ ن لیگ کی حکومت کو سارے سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں ہے وہ صرف چار ماہ کا بجٹ پیش کرے جبکہ حکومت نے ان کا یہ مطالبہ رد کردیا ہے اور اپنے تمام اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں اپنیشرکت یقینی بنائیں اس لئے سپیکر نے ابھی تک ن لیگ کے مستعفی ہونے والے اراکین کے استعفے منظور نہیں کئے اور ان سے رابطے کئے ہیں کہ وہ بجٹ پاس کروا دیں انھیں ٹی اے ڈی اے بھی مل جائے گا اور استعفے بھی منظور ہو جائیں گے تاہم ان اراکین کی طرف سے ابھی تک حکومت کو کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے اب بھی ن لیگ کے اراکین کی ایوان میں تعداد ایک سو اسی سے زیادہ ہے جبکہ بجٹ پاس کروانے کے لئے انھیں سادہ اکثریت ہی درکار ہے لیکن ن لیگ کے اکثر اراکین یا تو حلقوں میں ہیں یا پھر دوسری جماعتوں میں جانے کے لئے پر تول رہے ہیں اور چیف وہپ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ مک مکا کی کوشش میں ہیں تاکہ بغیر کسی ہنگامہ ارائی کے بجٹ پاس کروایا جا سکے ذرائع کے مطابق بجٹ میں دفاع کی مد میں گیارہ سو ارب روپے رکھے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز ہے