آئندہ عام انتخابات ٹائم فریم کے مطابق ہوں گے اور نہ ہونیوالی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں

،اپوزیشن نے نگران وزیراعلی کیلئے اچھا نام دیا تو اتفاق کیا جا سکتا ہے ، عمران خان جن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر وزیراعظم بننا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم صرف عوامی طاقت ہی بنا سکتی ہے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس

بدھ اپریل 19:29

آئندہ عام انتخابات ٹائم فریم کے مطابق ہوں گے اور نہ ہونیوالی اطلاعات ..
لاہور۔25 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان جن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر وزیراعظم بننا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم صرف عوامی طاقت ہی بنا سکتی ہی،ْ سب کو معلوم ہے کہ وکٹیں گرانے کی سازشیں کہاں سے ہو رہی ہیں ،ْ وکٹیں گرانے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ کہیں سسٹم اور جمہوری عمل کی وکٹ نہ گر جائے ،ْ دوسرے صوبوں نے بجٹ پیش کیا تو پنجاب بڑا بھائی ہونے کے ناطے بجٹ ضرور پیش کرے گا ،ْ اپوزیشن نے نگران وزیراعلی کیلئے اچھا نام دیا تو اس پر اتفاق رائے کیا جا سکتا ہے ،ْ چودھری نثار کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں پڑا ،ْ مسلم لیگ (ن) میں ان کی آج بھی پہلے جیسی حیثیت ہے ،ْ وہ کبھی بھی پی ٹی آئی میں نہیں جائیں گے ،ْ انتخابات آئین کے مطابق جو ٹائم فریم ہے اسی میں ہوں گے۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کے روز پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ آج سے شروع ہونیوالا پنجاب اسمبلی اجلاس اسمبلی مدت کا آخری اجلاس ہوگا جس کے بعد جمہوری عمل کا آغاز ہو گا اور انتخابات کے ذریعے نئے ممبران منتخب ہو کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں کام کرنے کا جوسلسلہ متعارف کروایا ہے امید ہے کہ نئے آنیوالوں کیلئے وہ ایک مثال ہوگا، 31 مئی کو موجودہ اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور اسی روزسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن اراکین کے اعزاز میں کھانا دیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ نگران وزیراعلی کیلئے اپوزیشن کی طرف سے ناموں کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اگر کوئی اچھا نام دیا گیا تو اسی پر اتفاق کیا جا سکتا ہے جس طرح پچھلی مرتبہ اپوزیشن کی طرف سے دیئے جانیوالے نام کو ہی نگران وزیراعلی بنایا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی کیا اوقات کہ وہ وکٹیں گرائے ،سب کو معلوم ہے کہ کوششیں کہاں سے کی جا رہی ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ کہیں سسٹم اور جمہوری عمل کی وکٹ نہ گر جائے جو پاکستان اور ریاست کو گرانے کے مترادف ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پنکی پیرنی کے ستارے آپس میں تو مل سکتے ہیں لیکن پاکستان سے نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار کسی صورت بھی پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہونگے ،ْ مسلم لیگ (ن)میں ان کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں پڑا تاہم احتلافات ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے بجٹ پیش کریں گے تو پنجاب بھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے بجٹ پیش کرے گا تاہم اس بات کا فیصلہ 27 اپریل کو وفاقی بجٹ کے بعد کیا جائے گا جبکہ چارماہ کا بجٹ تو ہر صورت پیش کرنا ہی پڑے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پارٹی کے اندر کوئی تفریق یا تقسیم نہ ہے ،ْ مسلم لیگ (ن) محمد نوازشریف کی قیادت میں متحد ہے جو بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لینے جا رہی ہے اور تمام طاقتوں کو عوامی طاقت سے شکست دے کر عوام کے ووٹ کو عزت دینے کے فیصلے پر مہر ثبت کرے گی۔ پشتون محاذ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب سیاسی جماعتوں اور مقبول سیاسی قیادت کو کمزور کیا جاتا ہے اور جتھے بنائے جاتے ہیں تو کچھ جتھے خود بخود بن جاتے ہیں، پشتون محاذ کو ایک سیاسی گروپ کے طور پر دیکھتا ہوں تاہم ان کے اقدام ملک اور ریاست کیلئے درست نہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات آئین کے مطابق دیئے گئے ٹائم فریم کے مطابق ہوں گے اور نہ ہونیوالی اطلاعات میں کوئی صداقت نہ ہے۔