عمران خان کی کیا اوقات وکٹیں گرائیں ،سب کو معلوم ہے کوششیں کہاں سے کی جارہی ہیں‘ رانا ثنا اللہ

وکٹیں گرانے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کہیں سسٹم اور جمہوری عمل کی وکٹ نہ گر جائے اپوزیشن نے نگران وزیراعلی کیلئے اچھا نام دیا تو اس پر اتفاق کیا جا سکتا ہے ،پہلے اپوزیشن کے نام کا انتظار کرینگے‘ پریس کانفرنس

بدھ اپریل 19:33

عمران خان کی کیا اوقات وکٹیں گرائیں ،سب کو معلوم ہے کوششیں کہاں سے کی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی کیا اوقات ہے کہ وہ وکٹیں گرائیں ،سب کو معلوم ہے کوششیں کہاں سے کی جارہی ہیں، وکٹیں گرانے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کہیں سسٹم اور جمہوری عمل کی وکٹ نہ گر جائے، دوسرے صوبوں نے بجٹ پیش کیا تو پنجاب بڑا بھائی ہونے کے ناطے بجٹ ضرور پیش کرے گا، اپوزیشن نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے اچھا نام دیا تو اس پر اتفاق کیا جا سکتا ہے اور ہم پہلے اپوزیشن کے نام کا انتظار کریں گے، چوہدری نثار کی عزت و احترام میں کوئی فرق پڑا ہے اور نہ پڑے گا ،وہ کبھی بھی پی ٹی آئی میں نہیں جائیں گے، اگر دوسرے صوبے بجٹ پیش کریں گے تو پنجاب بھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے بجٹ پیش کریگا ،اس بات کا فیصلہ 27 اپریل کو وفاقی بجٹ کے بعد کیا جائے گا جبکہ چارماہ کا بجٹ تو ہر صورت پیش کرنا ہی پڑے گا،،عمران خان اور پنکی پیر کے آپس میں تو ستارے ملتے ہیں لیکن دونوں کے ستارے پاکستان سے نہیںملتے اور وہ یہ ستارے اپنے پاس رکھیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں صوبائی وزیر انسانی حقوق خلیل طاہر سندھو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سے کیا۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا آج بدھ سے شروع ہونے والا سیشن موجودہ اسمبلی کا آخری اجلاس ہوگا جس کے بعد جمہوری عمل کا آغاز ہو گا اور انتخابات کے ذریعے نئے ممبران منتخب ہو کر آئیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں کام کرنے کا جوسلسلہ متعارف کرایا ہے امید ہے کہ وہ نئے آنے والوں کے لئے ایک مثال ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعلی کیلئے اپوزیشن کی طرف سے ناموں کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اگر کوئی اچھا نام دیا گیا تو اسی پر اتفاق کیا جا سکتا ہے ۔ قائد حزب اختلاف سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے اور انہیں کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس حوالے سے میل ملاقات رہنی چاہیے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی کیا اوقات کہ وہ وکٹیں گرائیں،سب کو معلوم ہے کہ کوششیں کہاں سے کی جا رہی ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کہیں سسٹم اور جمہوری عمل کی وکٹ نہ گر جائے جو پاکستان اور ریاست کو گرانے کے مترادف ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پنکی پیرنی کے ستارے آپس میں تو مل سکتے ہیں لیکن پاکستان سے نہیں ملتے۔

انہوں نے چوہدری نثار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ چوہدری نثار کسی صورت پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوں گے ، مسلم لیگ (ن)میں ان کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں پڑا تاہم احتلافات ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے بجٹ پیش کریں گے تو پنجاب بھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے بجٹ پیش کرے گا تاہم اس بات کا فیصلہ 27 اپریل کو وفاقی بجٹ کے بعد کیا جائے گا جبکہ چارماہ کا بجٹ تو ہر صورت پیش کرنا ہی پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کوئی تفریق یا تقسیم نہیں،مسلم لیگ (ن) محمد نوازشریف کی قیادت میں متحد ہے جو بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لینے جا رہی ہے اور تمام طاقتوں کو عوامی طاقت سے شکست دے کر عوام کے ووٹ کو عزت دینے کے فیصلے پر مہر ثبت کرے گی۔ پشتون محاذ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب سیاسی جماعتوں اور مقبول سیاسی قیادت کو کمزور کیا جاتا ہے اور جتھے بنائے جاتے ہیں تو کچھ جتھے خود بخود بن جاتے ہیں، پشتون محاذ کو ایک سیاسی گروپ کے طور پر دیکھتا ہوں تاہم ان کے اقدام ملک اور ریاست کیلئے درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات آئین کے مطابق دیئے گئے ٹائم فریم کے مطابق ہوں گے اور نہ ہونے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آج شروع ہونے والا سیشن دو ہفتے تک جاری رہے گا جس میں معمول کی کارروائی نمٹائی جائے گی جبکہ زیر التواء بل بھی منظور کرائے جائیں گے۔