سابق ایرانی صدرکے معاون حمید بقائی کی جیل میں وفات پانے کی متضاد اطلاعات

معاون خصوصی گذشتہ 40دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے، غیر ملکی میڈیا

بدھ اپریل 20:18

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے سابق معاون حمید بقائی کی جیل میں بھوک ہڑتال کے باعث وفات پانے کی متضاد اطلاعات ہیں، معاون خصوصی گذشتہ 40دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے سابق معاون حمید بقائی کی ایران کی ایفین جیل میں بھوک ہڑتال کے باعث وفات پانے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بعض ذرائع حمید بقائی کی موت کی خبر دے رہے ہیں جب کہ بعض کے مطابق وہ بھوک ہڑتال کے بعد تشویشناک حالت میں اسپتال داخل کیے گئے ہیں تاہم وہ بہ قید حیات ہیں۔خیال رہے کہ حمید بقائی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے ہیں۔ ان پر دھوکہ دہی اور مالی بدعنوانی کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کچھ عرصے سے جیل میں اپنے ساتھ برتے جانے والے ناروا سلوک پر بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ روز حمید بقائی کی اچانک فوتگی کی افواہ کے بعد سابق صدر کے سیکڑوں حامی تہران میں ’بقی اللہ‘ اسپتال کے باہر جمع ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ خبر آئی تھی کہ حمید بقائی پر غشی کا دورہ پڑا تھا تاہم وہ زندہ ہیں۔خبر رساں ادارے ’فارس‘کے مطابق احمدی نڑاد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حمید بقائی 40 دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھوک ہڑتال ان کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ بھوک ہڑتال کی وجہ سے وہ بے ہوش ہیں تاہم فوت نہیں ہوئے۔خیال رہے کہ حمید بقائی پر قومی خزانے سے 3 کروڑ 50 لاکھ یورو کی رقم چوری ہرنے اور القدس ملیشیا کے ساڑھے سات لاکھ ڈالر میں خورد برد کرنے کا الزام ہے۔