قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2018کی منظوری دیدی

اب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل جس تنظیم اور فرد پر پابندی عائد کرے گی ،اس کا اطلاق پاکستان میں بھی ہو جائے گا،جمعیت علماء اسلام(ف) کی مخالفت اگر جے یو آئی بل کی مخالفت کرے گی تو اقوام متحدہ فضل الرحمان سمیت ان کی جماعت کے دیگر رہنمائوں پر بھی سفری پابندی عائد کر سکتاہے،قوانین کو بہتر کرنے سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہو گی،اقوام متحدہ کے فیصلوں سے کسی صورت فرار حاصل نہیں کرسکتے، 2014میں بنائی گئی قومی داخلی سیکیورٹی پالیسی کی مدت پوری ہو چکی ہے،نئی داخلی سیکیورٹی پالیسی مرتب کر رہے ہیں،اس کی منظوری بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ سے لی جائے گی ،یہ 2023تک نافذ العمل ہو گی،وزیر داخلہ احسن اقبال کا نعیمہ کشور کے اعتراض پر جواب

بدھ اپریل 20:28

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی  داخلہ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2018کی ..
'اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2018کی منظوری دے دی،جس کے مطابق اب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل جس تنظیم اور فرد پر پابندی عائد کرے گی ،اس کا اطلاق پاکستان میں بھی ہو جائے گاجمعیت علماء اسلام(ف) کی رکن نعیمہ کشور کی طرف سے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کی مخالفت پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے انہیں بتایا کہ اگر جے یو آئی بل کی مخالفت کرے گی تو اقوام متحدہ مولانا فضل الرحمان سمیت ان کی جماعت کے دیگر رہنمائوں پر بھی سفری پابندی عائد کر سکتاہے،قوانین کو بہتر کرنے سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہو گی،،اقوام متحدہ کے فیصلوں سے کسی صورت فرار حاصل نہیں کرسکتے، 2014میں بنائی گئی قومی داخلی سیکیورٹی پالیسی کی مدت پوری ہو چکی ہے،نئی داخلی سیکیورٹی پالیسی مرتب کر رہے ہیں جس کی منظوری بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ سے لی جائے گی اور یہ 2023تک نافذ العمل ہو گی،ملک کو سائبر دہشت گردی سے بچانے کیلئے سائبر سیکیورٹی ایجنسی بنا رہے ہیں،،کرپشن کے نام پر سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس رانا شمیم احمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ روز کوئٹہ دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانیکی گئی ۔ رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے کہا کہ خواتین کی رجسٹریشن کیلئے نادرا سے موبائل رجسٹریشن وین کی درخواست کی تھی تاکہ مردان اور صوابی کی خواتین کی رجسٹریشن ہو سکے لیکن ایک ماہ تک نادرا حکام نے مذاق کیا نادرا حکام نے درخواست کے باوجود وین فراہم نہیں کی، جس پر نادرا کے ڈائریکٹر کاشف نذر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی موبائل رجسٹریشن وین فراہم کر دی جائے گی،ہر ماہ نادرا کو موصول درخواستوں کے مطابق شیڈول کے تحت گاڑیاں بھیجتے ہیں،جس پر چیئرمین کمیٹی رانا شمیم نے کہاکہ مردان اور صوابی کی خواتین کی رجسٹریشن کیلئے نادرا موبائل وینز (آج) جمعرات کو فراہم کرے ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم پر بریفنگ دی اور کمیٹی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل میں سقم ہے، مزید ایک سیکشن شامل کی جائے،،اقوام متحدہ کے چارٹر پرپاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں،جب تک انسداد دہشت گردی قوانین کو عالمی معیار کے مطابق نہیں کر لیتے اس وقت تک عالمی پابندیوں کی تلوار لٹکتی رہے گی، بل میں ایک سیکشن شامل کرنے سے قانون عالمی معیار کا ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی معاہدات کی اخلاقی اور مذہبی طور پر پابندی لازم ہے،دہشت گردی کا کسی صورت دفاع کر رہے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔ رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے پر ایک لفظ کی تبدیلی سے اتنا ایشو کھڑا ہو گیا تھااب انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے اور کل دنیا کی طرف سے ہمیں ایک فہرست دے دی جائے گی کہ ان کو ہمارے حوالے کریں، جس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے پاس آخری ایک ماہ ہے اس میں ایجنڈے کو سمیٹنے کی ضرورت ہے، بل میں نئی سیکشن سے اقوام متحدہ جس تنظیم اورفرد پر پابندی لگائے گی پاکستان میں بھی اس کا اطلاق ہو جائے گا جس پرجماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے اراکین نے انسداد دہشت بل میں نیا سیکشن شامل کرنے کی شدید مخالفت کی،جس پر ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹیکو بتایا کہ ہم اقوام متحدہ کے رکن ہیں تو اس کے ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاکہ نئی سیکشن کی منظوری سے انسداد دہشت گردی قوانین عالمی معیار کے مطابق ہو جائیں گے۔ اگر کمیٹی اراکین اختلاف کریں گے تو عالمی سطح پر اچھا پیغام نہیں جائے گا۔کمیٹی نے جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے تحفظات کے باوجود انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2018کی منظوری دے دی،کمیٹی رکن نعیمہ کشور نے کہاکہ بل کشمیری کی تحریک آزادی دینی جماعتوں اور شخصیات کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے حکومت بتائے کہ اگر کل یہ بل کشمیر کی تنظیموں پر پابندی کے حوالے سے استعمال کیا گیا تو پھرکیا کریں گے،جس وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاکہ اگر اقوام متحدہ میرا نام بھی کالعدم افراد کی فہرست میں ڈال دے تو میں بھی پابند ہوں گاکہ اس فیصلے پر عملدرآمد ہو۔

وزیرداخلہ نے کمیٹی کو قومی داخلی سلامتی پالیسی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی پالیسی کسی بھی ملک کا روڈ میپ ہوتی ہے،2014میں بنائی گئی سیکیورٹی پالیسی کا دورانیہ مکمل ہو چکا ہے، نئی سیکیورٹی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے، جس میں تمام صوبوں، سیاسی جماعتوں، صوبوں اور تمام مکاتب فکر سے رائے لی جا رہی ہے، اس سیکیورٹی پالیسی کا اطلاق 2023تک ہو گا اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بجٹ سیشن کے دوران نئی سیکیورٹی پالیسی کو پارلیمنٹ سے منظور کروالیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، انتہاء پسندی اور منظم جرائم کے خاتمے کیلئے ریاست میں رابطوں کا فقدان ہے، نئے چیلنجز سے نمٹنے اور ملک میں امن و استحکام کیلئے ریاست کے ڈھانچے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی موجودہ دور کا ایک نیا چیلنج ہے، ملک کو سائبر دہشت گردی سے بچانے کیلئے سائبر سیکیورٹی ایجنسی بنا رہے ہیں، دہشت گردی میں صرف مدارس کے طالبعلم نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملوث ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی کوششوں کے باوجود تحقیق کے اداروں نے اس کے اسباب پر ریسرچ نہیں کی دہشت گرد بننے کی سائنس کیا ہے اس پر ہم نے تحقیق نہیں کی، امریکہ کینیڈا برطانیہ آسٹریلیا کے نوجوان داعش میں شامل ہو رہے ہیں وہاں تو مدارس نہیں کراچی میں انصار شریعہ نامی تنظیم میں پڑھے لکھے لوگ تھے۔۔جماعت اسلامی کے رکن شیر اکبر کی طرف سے کرپشن کے خاتمے کی بات کرنے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم سب کرپشن کے خلاف ہیں،،کرپشن کے نام پر سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ انڈیا میں کرپشن سب سے زیادہ ہے، وہاں کے سیاستدان انڈرورلڈ سے ملے ہوئے ہیں، کرپشن کے خاتمے کا واحد ذریعہ ملک میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے، جب ملک میں ترقی تیز ہو گی تو پھر کرپشن میں کمی آئے گی۔