اسلام ظاہری و باطنی پاکیزگی کا درس دیتا ہے‘ڈاکٹرراغب نعیمی

معاشرے میں موجود منفی روایات کااسلام کاکوئی تعلق نہیں‘ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ

بدھ اپریل 20:38

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ مفتی ڈ اکٹر محمدراغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ اسلام ظاہری و باطنی پاکیزگی کا درس دیتا ہے،معاشرے میں موجود منفی روایات کااسلام کاکوئی تعلق نہیں۔اسلام بنیادی طور پرطہارت و پاکیزگی کا دین ہے ۔ ایک طرف یہ ظاہری پاکی اور نظافت پر زور دیتے ہوئے اپنے وجود ،رہنے کی جگہ اور معاشرے کو پاک صاف دیکھنا چاہتا ہے تودوسری طرف باطنی پاکی کے حصول کے لیے ہر قسم کے شک، نفاق اور شرک کو دل سے نکال کر اسے منزہ کرنا چاہتا ہے ۔

اندرونی صفائی عقیدے کی درستگی سے آتی ہے تو بیرونی صفائی کا تعلق اپنے آپ کو ہر قسم کی نجاست سے پاک کرکے طہارت کے دونوں پہلوؤں ،طہارت صغری ٰاورطہارت کبریٰ پر عمل کرنے سے ہے۔

(جاری ہے)

خاتون حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرانہ ہو کر بھی جسمانی صحت خرابی کا شکار ہو جاتی ہے اپنے جسم کو صاف رکھنا ، وقت پرنہانا صاف کپڑے پہننااپنے رہنے کی جگہ کو پاک صاف رکھنا بھی نہایت اہم ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈرسٹڈیز میں منعقدہ قومی مشاورتی سیمینار’’ایام مخصوصہ مسائل و غلط تصورات مذہب اور طب کی روشنی میں ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے ممبرقرآن بورڈ مفتی انتخاب احمد،متحدہ علماء بورڈ کے ممبر پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی،جامعہ منہاح الحسین کے سربراہ علامہ حسین اکبر،ضلعی خطیب مولانا طیب رشید ،معروف سماجی رہنماعمرآفتاب ،ممتاز سرجن ڈاکٹر فرحت نعمان ددیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

علماء نے اپنے خطابات میں کہاکہ حالت حیض نجاست ہے ۔ اس لیے اس میں کسی قسم کی عبادت نہ ہو سکے گی ۔ایام مخصوصہ کا آغاز بچی کے بالغ ہونے کا تیقّن ہے ۔ اس حالت میں نماز و روزہ کی ادائیگی اور مسجد یا خانہ کعبہ میں جانا حرام ہے ۔نماز کی قضا نہ ہے جبکہ روزے کی قضا دینا ہو گی۔ایسے ہی نہ تو قرآن کریم کو چھو سکتے ہیں اور نہ ہی تلاوت کر سکتے ہیں ۔

حائضہ اعتکاف بھی نہیں کر سکتی۔ اس حالت میں ان سے جنسی تعلق کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔اگر کوئی حرام سمجھ کر کرے تو اس پر توبہ فرض ہے خواتین جب ان ایام سے فارغ ہو جائیں تو طہارت حاصل کرنے کے لیے غسل واجب ہے ۔حائضہ کا پسینہ اور جوٹھاپاک ہے ۔ جبکہ اس حالت میں خواتین کاذکرو اذکار ، درود شریف تکبیر ،تہلیل اور اذان کا جواب دینا جائز ہے ۔