بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی کا عمل ہمیشہ جاری رہا ہے، 18 ویں ترمیم کے بعد ضروری قانون سازی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،راحیلہ حمید خان درانی

بدھ اپریل 21:37

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی کا عمل ہمیشہ جاری رہا ہے اور خاص کر 18 ویں ترمیم کے بعد ضروری قانون سازی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ پچھلے دوسالوں میںاہم نوعیت کی قانون سازی کی گئی ہے موجودہ اسمبلی اب تک 66مسودہ قانون پاس کرچکی ہے جبکہ اب تک اسمبلی کی جانب سے 385 سوالات اور 109 تحاریک التوا ء کے علاوہ 119 سرکاری اور 164 نجی ارکان کی قرار داد یں نمٹائی گئی ہیں ۔

اسٹیڈنگ کمیٹیز کو فعال کر دیا گیا ہے جس سے بہتر انداز میںقانون سازی اوربل ڈارفٹنگ میں مدد مل رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 23ویں سینئر مینجمنٹ کورس پشاور کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کے روز چیف انسٹرکٹرنم پشاور مرزا خالد امین کی قیادت میں بلوچستان صوبائی اسمبلی کے دورے کے موقع پراسپیکر سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر اسپیکر نے شرکاء کو پارلیمانی امور اور اسمبلی کارکردگی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے دروازے تمام اداروں کے لئے کھول دیئے گئے ہیں اور اب تمام سیکٹرز خاص کر تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد اور طلباو طالبات کو اسمبلی کی کارروائی دیکھنے اور پارلیمانی امور سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔

حال ہی میں ملک بھر کے جامعات اور کالجز کے تقریبا ً 250 طلباء و طالبات نے اپنے فیکلٹی ممبرز کے ہمراہ اسمبلی کا دورہ کیا ہے اور اسمبلی کی براہ راست کا رروائی دیکھی ۔ اسپیکر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ اسمبلی میں خواتین کو بااختیار بنانے ، معذور افراد کے حقوق کے تحفظ ، اقلیتوں کے حقوق ، چائلڈ پروٹیکشن ، نوجوانوں میں شیشہ کے استعمال کی روک تھام ، گواہوں کے تحفظ ایکٹ ، ڈومیسٹک وایلنس بل کے علاوہ متعدد قوانین کی منظوری دی ہے۔

جبکہ دیگر متعدد شعبوں خاص کر کم عمری کی شادیوں کی روک تھام سے متعلق قوانین تیاری کے مراحل میں ہیں ۔ اسپیکر نے کہا کہ حال ہی میں اسمبلی نے بہت ہی اہم نوعیت کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بل 2018 کی منظوری دی ہے جس کے نفاذ سے سی پیک کے تناظر میں سرکاری نجی شراکت داری اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کو مزیدمستحکم بنانے کیلئے ارکان اسمبلی اور خاص کر اسمبلی افسران و دیگر عملے کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔

جس سے ممبرز کیساتھ ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ اسپیکرنے کہا کہ یہ امر بھی باعث مسرت ہے کہ موجودہ اسمبلی نے پہلی بار خواتین پارلیمنٹری کاکس ، اقلیتی کاکس اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے۔اس موقع پر کورس کے شرکاء نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کی کارکردگی اور خاص کر خواتین اوربچوں کے تحفظ سے متعلق کی گئی قانون سازی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہا ۔ بعد ازاں اسپیکر اسمبلی کے ہمراہ کورس کے شرکاء نے اسمبلی ہال کا معائنہ بھی کیا ۔