وزیراعظم پاکستان چاروں وزراء اعلیٰ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان پانی کے مسئلہ پر یکسو نہیں، ایوب خان میو

پاکستان کی معیشت میں بالواسطہ اور بلاواسطہ زراعت کی پیداوار ہی پاکستان کا ایسا ستون ہے جو کہ پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دے رہا، سربراہ پاکستان متحدہ کسان محاذ

بدھ اپریل 21:59

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) وزیراعظم پاکستان چاروں وزراء اعلیٰ پنجاب،، سندھ،، کے پی کے اور بلوچستان پانی کے مسئلہ پر یکسو نہیں ہیں، پاکستان کی معیشت میں بالواسطہ اور بلاواسطہ زراعت کی پیداوار ہی پاکستان کا ایسا ستون ہے جو کہ پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دے رہا مگر افسوس کہ کل کی اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان بھر کی نمائندگی کرنے والے وزرائے اعلیٰ آبپاشی کے لئے کسی آبی ذخیرہ کو بنانے میں اتفاق نہیں رکھتے اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کے لئے کوئی منصوبہ بنایا گیا اور نہ ہی معاہدہ 1991ء جن پر چاروں وزرائے اعلیٰ کے دستخط ہیں اس معاہدہ پر کسی عملدرآمد کی بات کی بلکہ حق حکمرانی اقتدار کے نشہ میں صرف نشستن، گفتن و برخاستن کے مصداق اپنے لوازمات، اپنے مفادات کو ملحوظ رکھا بظاہر کسانوں کے مسائل میں سب سے بڑے پانی کے مسئلے کو انہوں نے سنجیدہ نہیں لیا۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں سربراہ پاکستان متحدہ کسان محاذ ایوب خان میو نے ہنگامی پریس کانفرنس میں بیان کیا ہے کہ آج کے بڑے حکمران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بھارتی آبی جارحیت و آبی دہشت گردی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہے۔ افسوس کہ ان حکمرانوں نے سندھ طاس کمشنر 10 فروری 2018ء سے تعینات نہ کر کے بھارت کو معاہدہ سندھ طاس 1960ء کی خلاف ورزی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جبکہ بھارت 50 فیصد سے زائد پاکستان کے دریائوں، چناب، جہلم، سندھ کے پانی کو روک کر، پانی کا رخ موڑ کر اور ڈیزائن کے خلاف ڈیمز بنا کر سندھ طاس معاہدہ 1960ء کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ ارسا پاکستان کی رپورٹ کے مطابقک پاکستان کے زرعی اور آبپاشی کے استعمال میں 68 فیصد کمی آ چکی ہے۔

یہ سب کردار پاکستان کے معاشی مفادات کے خلاف بین الاقوامی ایجنڈہ پر حکومت پاکستان و حکومت پنجاب سرانجام دے رہی ہے اور کسانوں کی پانی کی وجہ سے پیداواری صلاحیت بھی شدید کم ہو چکی ہے اور خسارہ کی تجارت میں جا چکے ہیں، مزید یہ کہ دریائے چناب کا پانی ہماری دفاعی لائن بھی ہے مگر حکمران جن میں وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ شامل ہیں اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور سندھ طاس کمشنر تعینات نہ کر کے اور عالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف بھارتی آبی جارحیت کا مقدمہ نہ دائر کر کے پاکستان سے غداری،، بے وفاقی کا واضح ثبوت دیا جا رہا ہے۔

ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاستدان جو کہ بھارت و امریکہ اور برطانیہ کے آگے ملکی مفادات کی بات نہیں کر سکتے لہٰذا پاکستان کے سندھ طاس پانی کے نظام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر اپنے اداراتی اختیارات کا استعمال کریں تاکہ پاکستان کی زراعت کو بچایا جا سکے، پاکستان کو بے آب و گیا اور اس کی زمینوں کو بنجر ہونے سے بچایا جائے۔